حدیث نمبر: 6291
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُرْضِيَنَّ أَحَدًا بِسُخْطِ اللَّهِ ، وَلَا تَحْمَدَنَّ أَحَدًا عَلَى فَضْلِ اللَّهِ ، وَلَا تَذُمُّنَّ أَحَدًا عَلَى مَا لَمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ ، فَإِنَّ رِزْقَ اللَّهِ لَا يَسُوقُهُ إِلَيْكَ حِرْصُ حَرِيصٍ ، وَلَا يَرُدُّهُ عَنْكَ كَرَاهِيَةُ كَارِهٍ ، وَإِنَّ اللَّهَ بِقِسْطِهِ وَعَدْلِهِ جَعَلَ الرَّوْحَ وَالْفَرَحَ فِي الرِّضَا وَالْيَقِينِ ، وَجَعَلَ الْهَمَّ وَالْحَزَنَ فِي السُّخْطِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ ، وَاتُّهِمَ بِالْوَضْعِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم اللہ کی ناراضگی کے ہمراہ کسی کو راضی کرنے کی کوشش ہرگز نہ کرو اور اللہ تعالی کے فضل کے حوالے سے کسی شخص کی حمد بیان نہ کرو اور اس چیز کے حوالے سے تم کسی کی مذمت نہ کرو جو اللہ تعالی نے تمہیں نہیں دی ہے کیونکہ کسی لالچی شخص کا لالچ اس رزق کو تمہاری طرف نہیں لے آئے گا اور کسی ناپسندیدہ شخص کی ناپسندیدگی اس رزق کو تم سے پھیر نہیں دے گی بے شک اللہ تعالیٰ نے انصاف اور عدل کے مطابق ، آرام اور خوشی کو رضا اور یقین میں رکھا ہے اور غم اور پریشانی کو ناراضگی میں رکھا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید عمری ہے ، جس پر حدیث ایجاد کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6291
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10514)»