مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ الِاقْتِصَادِ فِي طَلَبِ الرِّزْقِ وَالْإِجْمَالِ فِيهِ . باب: رزق کی طلب میں میانہ روی اختیار کرنا ، اور اس بارے میں احتیاط کرنا
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا النَّاسَ ، فَقَالَ : " هَلُمُّوا إِلَيَّ " . فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ ، فَجَلَسُوا فَقَالَ : " هَذَا رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَفَثَ فِي رُوعِي أَنَّهُ لَا تَمُوتُ نَفْسٌ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا ، وَإِنْ أَبْطَأَ عَلَيْهَا ، فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ ، وَلَا يَحْمِلَنَّكُمُ اسْتِبْطَاءُ الرِّزْقِ أَنْ تَأْخُذُوهُ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ - تَعَالَى - ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُنَالُ مَا عِنْدَهُ إِلَّا بِطَاعَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ قُدَامَةُ بْنُ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے لوگوں کو بلایا اور فرمایا : میری طرف آ جاؤ لوگ آپ کی طرف آ کر بیٹھ گئے آپ نے ارشاد فرمایا : یہ تمام جہانوں کے پروردگار کے قاصد سیدنا جبرائیل نے مجھے یہ بتایا ہے کہ کوئی بھی شخص اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک وہ اپنا رزق مکمل حاصل نہیں کر لیتا خواہ وہ تاخیر سے اسے ملے تو تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور رزق حاصل کرتے ہوئے احتیاط سے کام لو رزق کا تاخیر سے آنا تمہیں اس بات پر مجبور نہ کرے کہ تم اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ہمراہ حاصل کرو کیونکہ اس کے پاس جو چیز موجود ہے وہ صرف اس کی فرمانبرداری کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قدامہ بن زائدہ بن قدامہ ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔