کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: شکار کی جزاء کا بیان
عَنْ مُصْعَبٍ الْمَكِّيِّ قَالَ : أَدْرَكْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَالْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، فَسَمِعْتُهُمْ يُحَدِّثُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَمَرَ اللَّهُ شَجَرَةً لَيْلَةَ الْغَارِ فَنَبَتَتْ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَتَرَتْهُ ، وَأَمَرَ الْعَنْكَبُوتَ فَنَسَجَتْ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَتَرَتْهُ ، وَأَمَرَ اللَّهُ حَمَامَتَيْنِ وَحْشِيَّتَيْنِ فَوَقَعَتَا بِفَمِ الْغَارِ ، فَأَقْبَلَ فِتْيَانُ قُرَيْشٍ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ بِعِصِيِّهِمْ وَهَرَاوِيهِمْ وَسُيُوفِهِمْ ، حَتَّى إِذَا كَانُوا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْرَ أَرْبَعِينَ ذِرَاعًا فَعَجَّلَ بَعْضُهُمْ فَنَظَرَ فِي الْغَارِ ، فَرَأَى حَمَامَتَيْنِ بِفَمِ الْغَارِ فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالُوا : مَا لَكَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُ حَمَامَتَيْنِ بِفَمِ الْغَارِ فَعَرَفْتُ أَنْ لَيْسَ فِيهِ أَحَدٌ ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ فَعَرَفَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ دَرَأَ عَنْهُ بِهِمَا فَدَعَا لَهُنَّ ، وَسَمَّتَ عَلَيْهِنَّ ، وَفَرَضَ جَزَاءَهُنَّ ، وَأُقْرِرْنَ فِي الْحَرَمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَمُصْعَبٌ الْمَكِّيُّ وَالَّذِي رَوَى عَنْهُ ، وَهُوَ عُوَيْنُ بْنُ عَمْرٍو الْقَيْسِيُّ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مصعب مکی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو پایا میں نے ان حضرات کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” غار والی رات اللہ تعالیٰ نے درخت کو حکم دیا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پھوٹ پڑا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھپا لیا اللہ تعالیٰ نے مکڑی کو حکم دیا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے جالا بن دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھپا لیا اللہ تعالی نے جنگلی کبوتریوں کو حکم دیا وہ دونوں غار کے دروازے پر آئیں قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان جن کا تعلق ہر شاخ سے تھا وہ اپنی لاٹھیاں اپنے ہتھیار اور تلواریں لے کر آئے ، یہاں تک کہ جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے چالیس بالشت کے فاصلے پر رہ گئے اور ان میں سے ایک شخص آگے آیا اس نے غار کا جائزہ لیا تو اس کو غار کا جائزہ لیا تو انہوں نے غار کے منہ پر دو کبوتریاں نظر آئیں وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس گیا اس ان کے ساتھیوں نے دریافت کیا : کیا ہوا اس نے جواب دیا : میں نے غار کے منہ پر دو کبوتریاں دیکھی ہیں جس سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہاں کوئی نہیں ہے اس نے جو بات کہی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سن لی اور آپ کو پتہ چل گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کبوتریوں کے ذریعے ان لوگوں کو آپ سے پرے کر دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( کبوتریوں ) کے حق میں دعا کی اور آپ نے ان کو برکت کی دعا دی ، اور ان کی جزا مقرر کی ، اور انہیں حرم میں برقرار رکھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ مصعب بن عمیر نامی راوی اور جس نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔ یعنی عوین بن عمرو قیسی میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5419
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : - فَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ - : " حَكَمَ فِي الضَّبُعِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ بِشَاةٍ ، وَفِي الْأَرْنَبِ عَنَاقٌ ، وَفِي الْيَرْبُوعِ جَفْرَةٌ ، وَفِي الظَّبْيِ كَبْشٌ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ۔ انہوں نے ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے ۔ اگر کوئی احرام والا شخص کسی گوہ کو نقصان پہنچا دے ایک بکری کی ادائیگی کا فیصلہ دیا ہے ، اور خرگوش کو نقصان پہنچانے کی صورت میں ایک سال سے کم عمر کی بکری کا ، اور یربوع ( چوہے کے جیسا ایک جانور ) کو نقصان پہنچانے کی صورت میں چار ماہ کی بھیٹر ( یا بکری ) کا اور ہرن کو نقصان پہنچانے کی صورت میں دنبے کی ادائیگی کا ، انہوں نے اس بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اجلح کندی ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5420
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ : كُنْتُ مُحْرِمًا ، فَرَأَيْتُ ظَبْيًا فَرَمَيْتُهُ ، فَأَصَبْتُ خُشَشَاءَهُ - يَعْنِي : أَصْلَ قَرْنِهِ - فَرَكِبَ رَدْعَهُ ، فَوَقْعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَسْأَلُهُ فَوَجَدْتُ إِلَى جَنْبِهِ رَجُلًا أَبْيَضَ رَقِيقَ الْوَجْهِ ، فَإِذَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، ( رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَسَأَلْتُ عُمَرَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَالْتَفَتَ إِلَي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ) ، فَقَالَ : تَرَى شَاةً تَكْفِيهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَأَمَرَنِي أَنْ أَذْبَحَ شَاةً . فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِهِ قَالَ صَاحِبٌ لِي : إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَمْ يُحْسِنْ يُفْتِيكَ حَتَّى سَأَلَ الرَّجُلَ ، فَسَمِعَ عُمَرُ بَعْضَ كَلَامِهِ فَعَلَاهُ بِالدِّرَّةِ ضَرْبًا ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ لِيَضْرِبَنِي فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ( إِنِّي ) لَمْ أَقُلْ شَيْئًا إِنَّمَا هُوَ قَالَهُ . فَتَرَكَنِي ( ثُمَّ قَالَ ) : أَرَدْتَ أَنْ تَقْتُلَ الْحَرَامَ وَتَتَعَدَّى الْفُتْيَا . ثُمَّ قَالَ : إِنَّ فِي الْإِنْسَانِ عَشَرَةُ أَخْلَاقٍ ; تِسْعَةٌ حَسَنَةٌ وَوَاحِدٌ سَيِّئٌ ، يُفْسِدُهَا ذَلِكَ السَّيِّئُ ، ثُمَّ قَالَ : إِيَّاكَ وَعِشْرَةَ السَّيِّئَاتِ . ¤
محمد محی الدین
قبیصہ بن جابر بیان کرتے ہیں : میں احرام کی حالت میں تھا ۔ میں نے ایک ہرن دیکھا میں نے اسے تیر مارا اور وہ اس کے سینگ کی جڑ میں لگ گیا پھر وہ تیزی سے دوڑ گیا ، میرے ذہن میں اس حوالے سے الجھن پیدا ہوئی ، میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا : میں نے ان کے پہلو میں ایک شخص کو دیکھا جو گورا چٹا تھا اور ان کا چہرہ بہت مہربان تھا وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا : وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : کیا تمہارے خیال میں اس کے لئے ایک بکری کافی رہے گی ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں ایک بکری ذبح کر دوں ۔ راوی کہتے ہیں : جب ہم ان کے پاس سے اٹھنے لگے تو میرے ایک ساتھی نے کہا: امیر المؤمنین نے تمہیں اچھا فتوی نہیں دیا انہوں نے پہلے ایک اور شخص سے پوچھا: ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا کچھ کلام سن لیا انہوں نے مارنے کے لئے درہ بلند کیا ، پھر وہ میری طرف آئے تاکہ وہ مجھے ماریں تو میں نے کہا: اے امیر المؤمنین میں نے کچھ نہیں کہا: اس شخص نے یہ کہا: ہے : تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے چھوڑ دیا اور پھر بولے : تم یہ چاہتے ہو حرام طور پر ایک قتل کرو اور پھر فتوی کی خلاف ورزی کرو پھر انہوں نے فرمایا : انسان میں دس اخلاق ہوں جن میں سے نو اچھے ہوں اور ایک برا ہو تو وہ ایک برا اسے خراب کر دیتا ہے پھر انہوں نے فرمایا : تم اس چیز سے بچو کہ دس ( اخلاق ) ہی برے ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5421
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَفِي رِوَايَةٍ : فَاجْتَنَحَ إِلَى رَجُلِ ، وَاللَّهِ لَكَأَنَّ وَجْهَهُ قَلْبٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ اس شخص کی طرف تو اللہ کی قسم اس شخص کا چہرہ دل کی مانند تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5422
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح