کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: احرام والے شخص کے لئے گوشت کھانے کا جائز ہونا ، جبکہ اس نے خود شکار نہ کیا ہو ، یا اس کے لئے شکار نہ کیا گیا ہو
عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالْعَرْجِ ، فَإِذَا هُوَ بِحِمَارٍ عَقِيرٍ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَهْزٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا رَمِيَّتِي فَشَأْنُكُمْ بِهَا . فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ فَقَسَّمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى عَقَبَةَ الْأُثَايَةِ ، فَإِذَا هُوَ بِظَبْيٍ فِيهِ سَهْمٌ ، وَهُوَ حَاقِفٌ فِي ظِلِّ صَخْرَةٍ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " قِفْ هَاهُنَا حَتَّى يَمُرَّ الرِّفَاقُ لَا يَرْمِيهِ أَحَدٌ بِشَيْءٍ " . ¤ قُلْتُ : ذَكَرَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ لِعُمَيْرٍ تَرْجَمَةً ، وَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ حَدِيثِهِ نَفْسِهِ فَلِذَلِكَ ذَكَرْتُهُ ، وَقَدْ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ عُمَيْرٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَهْزٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمیر بن سلمہ ضمری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ” عرج “ کے مقام سے ہوا وہاں ایک زخمی گدھا موجود تھا تھوڑی دیر کے بعد بہز قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میرے نشانے سے زخمی ہوا ہے آپ لوگ اسے استعمال کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اپنے ساتھیوں کے درمیان اسے تقسیم کر دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے یہاں تک کہ ” اثایہ “ کی گھاٹی میں آئے ، تو وہاں ایک ہرن موجود تھا جسے تیر لگا ہوا تھا اور وہ چٹان کے سائے میں بیٹھا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کو حکم دیا اور ارشاد فرمایا : تم یہاں ٹھہرے رہو یہاں تک کہ تمام قافلے والے یہاں سے گزر جائیں کوئی شخص اسے کوئی چیز نہ مارے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام أحمد نے سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ کے حالات ذکر کیے ہیں اور ان کی نقل کردہ احادیث میں سے یہی حدیث نقل کی ہے ، جو میں نے اسی لئے یہاں ذکر کر دی ہے
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے عمیر کے حوالے سے بہز قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے عمیر کے حوالے سے بہز قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ عَلَى الصَّدَقَةِ ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مُحْرِمِينَ حَتَّى نَزَلُوا عُسْفَانَ ، فَإِذَا هُمْ بِحِمَارِ وَحْشٍ . وَجَاءَ أَبُو قَتَادَةَ ، وَهُوَ حِلٌّ وَنَكَّسُوا رُءُوسَهُمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُبْدُوا أَبْصَارَهُمْ فَيَعْلَمَ ، فَرَآهُ أَبُو قَتَادَةَ فَرَكِبَ فَرَسَهُ وَأَخَذَ الرُّمْحَ فَسَقَطَ مِنْهُ الرُّمْحُ فَقَالَ : نَاوِلُونِيهِ . فَقَالُوا : نَحْنُ مَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ . فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَعَقَرَهُ ، فَجَعَلُوا يَشْوُونَ مِنْهُ ، ثُمَّ قَالُوا : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا . وَكَانَ تَقَدَّمَهُمْ فَلَحِقُوهُ ، فَسَأَلُوهُ فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا . قَالَ : فَأَحْسَبُهُ قَالَ : " هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ ؟ " . - شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ - رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کو صدقہ کی وصولی کے لئے بھیجا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب احرام باندھ کر نکلے یہاں تک کہ انہوں نے عسفان کے مقام پر پڑاؤ کیا وہاں ایک زیبرا موجود تھا سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے انہوں نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا لوگوں نے اپنے سروں کو جھکا لیا اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ کہیں ان کی نگاہوں کے ذریعے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو ( شکار کے بارے میں ) پتہ چل جائے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے انہوں نے نیزہ لیا ان کا نیزہ نیچے گر گیا انہوں نے فرمایا : تم لوگ یہ مجھے پکڑا دو تو ان لوگوں نے کہا: ہم اس بارے میں آپ کی مدد نہیں کریں گے پھر سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کر کے اسے زخمی کر دیا لوگوں نے اس کا گوشت پکانا شروع کیا ، پھر ان لوگوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں ( اور ہم آپ سے پوچھے بغیر اسے استعمال کرنے لگے ہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں سے کچھ آگے تھے وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کے ملے اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا تھا : کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے ؟ یہ شک عبیداللہ نامی راوی کو ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي لَحْمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام والے شخص کو شکار کے گوشت کو ( کھانے ) کی رخصت دی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابومخارق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابومخارق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَحْمُ الصَّيْدِ لَكُمْ حَلَالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شکار کا گوشت تمہارے لئے حلال ہے ، جبکہ تم نے خود اسے شکار نہ کیا ہو ، یا وہ تمہارے لئے شکار نہ کیا گیا ہو ، اور تم اس وقت احرام کی حالت میں ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔