مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ جَزَاءِ الصَّيْدِ . باب: شکار کی جزاء کا بیان
وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ : كُنْتُ مُحْرِمًا ، فَرَأَيْتُ ظَبْيًا فَرَمَيْتُهُ ، فَأَصَبْتُ خُشَشَاءَهُ - يَعْنِي : أَصْلَ قَرْنِهِ - فَرَكِبَ رَدْعَهُ ، فَوَقْعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَسْأَلُهُ فَوَجَدْتُ إِلَى جَنْبِهِ رَجُلًا أَبْيَضَ رَقِيقَ الْوَجْهِ ، فَإِذَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، ( رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَسَأَلْتُ عُمَرَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَالْتَفَتَ إِلَي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ) ، فَقَالَ : تَرَى شَاةً تَكْفِيهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَأَمَرَنِي أَنْ أَذْبَحَ شَاةً . فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِهِ قَالَ صَاحِبٌ لِي : إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَمْ يُحْسِنْ يُفْتِيكَ حَتَّى سَأَلَ الرَّجُلَ ، فَسَمِعَ عُمَرُ بَعْضَ كَلَامِهِ فَعَلَاهُ بِالدِّرَّةِ ضَرْبًا ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ لِيَضْرِبَنِي فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ( إِنِّي ) لَمْ أَقُلْ شَيْئًا إِنَّمَا هُوَ قَالَهُ . فَتَرَكَنِي ( ثُمَّ قَالَ ) : أَرَدْتَ أَنْ تَقْتُلَ الْحَرَامَ وَتَتَعَدَّى الْفُتْيَا . ثُمَّ قَالَ : إِنَّ فِي الْإِنْسَانِ عَشَرَةُ أَخْلَاقٍ ; تِسْعَةٌ حَسَنَةٌ وَوَاحِدٌ سَيِّئٌ ، يُفْسِدُهَا ذَلِكَ السَّيِّئُ ، ثُمَّ قَالَ : إِيَّاكَ وَعِشْرَةَ السَّيِّئَاتِ . ¤قبیصہ بن جابر بیان کرتے ہیں : میں احرام کی حالت میں تھا ۔ میں نے ایک ہرن دیکھا میں نے اسے تیر مارا اور وہ اس کے سینگ کی جڑ میں لگ گیا پھر وہ تیزی سے دوڑ گیا ، میرے ذہن میں اس حوالے سے الجھن پیدا ہوئی ، میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا : میں نے ان کے پہلو میں ایک شخص کو دیکھا جو گورا چٹا تھا اور ان کا چہرہ بہت مہربان تھا وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا : وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : کیا تمہارے خیال میں اس کے لئے ایک بکری کافی رہے گی ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں ایک بکری ذبح کر دوں ۔ راوی کہتے ہیں : جب ہم ان کے پاس سے اٹھنے لگے تو میرے ایک ساتھی نے کہا: امیر المؤمنین نے تمہیں اچھا فتوی نہیں دیا انہوں نے پہلے ایک اور شخص سے پوچھا: ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا کچھ کلام سن لیا انہوں نے مارنے کے لئے درہ بلند کیا ، پھر وہ میری طرف آئے تاکہ وہ مجھے ماریں تو میں نے کہا: اے امیر المؤمنین میں نے کچھ نہیں کہا: اس شخص نے یہ کہا: ہے : تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے چھوڑ دیا اور پھر بولے : تم یہ چاہتے ہو حرام طور پر ایک قتل کرو اور پھر فتوی کی خلاف ورزی کرو پھر انہوں نے فرمایا : انسان میں دس اخلاق ہوں جن میں سے نو اچھے ہوں اور ایک برا ہو تو وہ ایک برا اسے خراب کر دیتا ہے پھر انہوں نے فرمایا : تم اس چیز سے بچو کہ دس ( اخلاق ) ہی برے ہوں ۔