عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ : أَفَضْتُ مَعَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ : أَفَضْتُ مَعَ أَبِي عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ : أَفَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَزَادَ : فَرَجَعْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ حُسَيْنٍ ، فَقَالَ : صَدَقَ . ¤ وَالْبَزَّارُ ، وَقَدْ بَيَّنَ أَبُو يَعْلَى سَمَاعَ ابْنِ إِسْحَاقَ فَقَالَ : عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، فَصَحَّ الْحَدِيثُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ . ¤
محمد محی الدین
عکرمہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مزدلفہ سے واپس آیا میں انہیں مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی میں نے ان سے دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا میں اپنے والد کے ساتھ مزدلفہ سے واپس آیا تھا ، تو میں انہیں مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی میں نے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آیا تھا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنتا رہا ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ( عکرمہ بیان کرتے ہیں ) میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس واپس آیا اور انہیں سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے فرمان کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : انہوں نے سچ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے ابن اسحاق کا سماع بیان کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے ۔ ابن اسحاق سے
یہ روایت منقول ہے وہ یہ کہتے ہیں : ابان بن صالح نے مجھے حدیث بیان کی ہے ، تو الحمدللہ یہ حدیث مستند ہو جاتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ( عکرمہ بیان کرتے ہیں ) میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس واپس آیا اور انہیں سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے فرمان کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : انہوں نے سچ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے ابن اسحاق کا سماع بیان کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے ۔ ابن اسحاق سے
یہ روایت منقول ہے وہ یہ کہتے ہیں : ابان بن صالح نے مجھے حدیث بیان کی ہے ، تو الحمدللہ یہ حدیث مستند ہو جاتی ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّى فِي الْعُمْرَةِ حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ ، وَفِي الْحَجِّ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَحَدِيثُ الْعُمْرَةِ مَوْقُوفٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَلَهُ إِسْنَادٌ آخَرُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ سَعْدٍ وَابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عمرہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک تلبیہ پڑھتے رہے تھے ، جب تک آپ نے حجر اسود کا استلام نہیں کر لیا تھا اور حج میں اس وقت تک پڑھتے رہے تھے ، جب تک آپ نے جمرہ کی رمی نہیں کر لی تھی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے ، اور عمرہ کے بارے میں منقول روایت ” موقوف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے اس کی ایک اور سند بھی ہے ، جس میں عبداللہ بن مومل ہے ، جسے یحیی بن معین ابن سعد اور ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں یہ غلطی کر جاتا ہے ۔ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے ، اور عمرہ کے بارے میں منقول روایت ” موقوف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے اس کی ایک اور سند بھی ہے ، جس میں عبداللہ بن مومل ہے ، جسے یحیی بن معین ابن سعد اور ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں یہ غلطی کر جاتا ہے ۔ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : لَبَّى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَامِرُ بْنُ شَقِيقٍ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
ابووائل شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمرہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عامر بن شقیق ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عامر بن شقیق ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
وَعَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : حَجَجْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَرَأَيْتُهُ قَطَعَ التَّلْبِيَةَ ( حِينَ هَبَطَ مِنْ الثَّنِيَّةِ ) حِينَ رَأَى بُيُوتَ مَكَّةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ہلال بن یسار بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا میں نے انہیں دیکھا کہ انہوں نے اس وقت تلبیہ پڑھنا ” موقوف “ کر دیا جب وہ پہاڑی سے نیچے کی طرف آ رہے تھے ، اور جب انہوں نے مکہ کے گھروں کو دیکھ لیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔