کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: احرام باندھنا اور تلبیہ پڑھنا
حدیث نمبر: 5354
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخِ الْبَزَّارِ ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد احرام باندھا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف امام بزار کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ۔ امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5354
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1088)»
حدیث نمبر: 5355
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ حِينَ انْبَعَثَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کھڑی ہوئی تو آپ نے تلبیہ پڑھنا شروع کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5355
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «. اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10372)»
حدیث نمبر: 5356
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : كُلًّا قَدْ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ وَقَدْ أَهَلَّ ، وَهُوَ بِالْبَيْدَاءِ بِالْأَرْضِ قَبْلَ أَنْ تَسْتَوِيَ بِهِ رَاحِلَتُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ہر ایک کام کیا ہے آپ نے اس وقت بھی تلبیہ پڑھا تھا جب آپ کی سواری کھڑی ہوئی تھی اور آپ نے اس وقت بھی تلبیہ پڑھا تھا جب آپ کھلی جگہ میں موجود تھے ، اور ابھی آپ کی سواری کھڑی نہیں ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن شعیب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5356
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2752)»
حدیث نمبر: 5357
وَعَنْ أَبِي دَاوُدَ الْمَازِنِيِّ - وَكَانَ أَبُو دَاوُدَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ - قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّى فِيهِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْمَسْجِدِ فَسَمِعَهُ الَّذِينَ كَانُوا فِي الْمَسْجِدِ فَقَالُوا : أَهَلَّ مِنَ الْمَسْجِدِ ، وَأَهَلَّ حِينَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَقَالَ الَّذِينَ عِنْدَ الْمَسْجِدِ : أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ ، ثُمَّ لَمَّا اسْتَوَى عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ فَسَمِعَهُ الَّذِينَ كَانُوا عَلَى الْبَيْدَاءِ فَقَالُوا : أَهَلَّ مِنَ الْبَيْدَاءِ . وَصَدَقُوا كُلُّهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : مَجْهُولٌ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوداؤد مازنی رضی اللہ عنہ جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد ذوالحلیفہ میں داخل ہوئے آپ نے اس میں چار رکعات ادا کیں پھر آپ نے مسجد میں تلبیہ پڑھا جو لوگ مسجد میں موجود تھے انہوں نے آپ کو سن لیا تو انہوں نے کہا: آپ نے مسجد سے تلبیہ پڑھنا شروع کیا ، پھر جب آپ سواری پر سوار ہوئے تو آپ نے تلبیہ پڑھا تو جو جو لوگ مسجد کے پاس موجود تھے انہوں نے یہ کہا: جب آپ کی سواری کھڑی ہوئی تھی اس وقت آپ نے تلبیہ پڑھا تھا پھر جب آپ کھلے میدان میں آ کے کھڑے ہوئے تو آپ نے تلبیہ پڑھا تو جو لوگ آپ کے پاس موجود تھے انہوں نے آپ کو سن لیا اور یہ بات بیان کی کہ آپ نے میدان سے تلبیہ پڑھنا شروع کیا ، تو ان سب لوگوں نے صحیح بات بیان کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن سعید بن جبیر ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ۔ اس روایت کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5357
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (54/17 و55)»
حدیث نمبر: 5358
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَنَحْنُ مَعَهُ قَدْ خَرَجْنَا نَعْتَمِرُ فَلَمَّا انْحَدَرْنَا مِنَ الْأَكَمَةِ فِي الْوَادِي اغْتَسَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَاغْتَسَلْنَا مَعَهُ وَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالتَّلْبِيَةِ : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ : سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ : هَذِهِ وَاللَّهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عروہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو سنا ہم اس وقت ان کے ساتھ تھے ، اور ہم عمرہ کرنے کے لئے نکلے تھے ، جب ہم وادی میں موجود ٹیلے کی طرف آ رہے تھے تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے غسل کیا دو رکعات ادا کیں ان کے ساتھ ہم نے بھی غسل کیا ، اور ہم نے بھی دو رکعات ادا کر لیں پھر انہوں نے یہ تلبیہ پڑھنا شروع کیا : ” میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں بے شک حمد اور نعمت تیرے لئے مخصوص ہے ، اور بادشاہی بھی ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے “ ۔ عبداللہ بن عروہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : اللہ کی قسم ! یہ اللہ کے رسول کے تلبیہ ( کے کلمات ) ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا آپ نے نماز کے بعد احرام باندھا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5358
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5359
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَتْ تَلْبِيَةُ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدَيْكَ " . وَكَانَتْ تَلْبِيَةُ عِيسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ عَبْدُكَ وَابْنُ أَمَتِكَ " . وَكَانَتْ تَلْبِيَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے تلبیہ کے الفاظ یہ تھے : ” تیراہ بندہ اور تیرے دو بندوں ( یعنی تیرے بندے اور کنیز ) کا بیٹا حاضر ہے “ ۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے تلبیہ کے الفاظ یہ تھے : ” تیرا بندہ اور تیری کنیز کا بیٹا حاضر ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے الفاظ یہ تھے : ” میں حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5359
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5360
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا لَبَّى يَقُولُ : لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ . قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : ( انْتَهِ إِلَيْهَا فَإِنَّهَا ) تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ضحاک بن مزاحم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جب تلبیہ پڑھتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : ” میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے میں حاضر ہوں بے شک حمد اور نعمت تیرے لئے مخصوص ہے ، اور بادشاہی بھی ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے : تم صرف یہی پڑھو ! کیونکہ یہ اللہ کے رسول کا تلبیہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5360
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (2404)»
حدیث نمبر: 5361
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مَعْدِي قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَنَحْنُ إِذَا حَجَجْنَا الْبَيْتَ نَقُولُ : ¤ هَذِي زُبَيْدُ قَدْ أَتَتْكَ قَسْرًا تَغْـدُو بِهَـا مُضْمِرَاتٌ شَـزْرًا يَقْطَعْنَ خَبْتًا وَجِبَالًا وُعْـرًا ¤ قَدْ تَرَكُوا الْأَصْنَامَ خَلْوًا صُفْرًا وَنَحْنُ الْيَوْمَ نَقُولُ كَمَا عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا مِنْ قَرْنٍ وَنَحْنُ إِذَا حَجَجْنَا قُلْنَا : ¤ لَبَّيْكَ تَعْظِيمًا إِلَيْكَ عُذْرًا هَذِي زُبَيْدُ قَدْ أَتَتْكَ قَسْـرًا ¤ يَقْطَعْنَ خَبْتًا وَجِبَالًا وُعْرًا قَدْ خَلَّفُوا الْأَنْدَادَ خَلْوًا صُفْرًا ¤ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وُقُوفًا بِبَطْنِ مُحَسِّرٍ نَخَافُ أَنْ تَخْطَفَنَا الْجِنُّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْتَفِعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ ، فَإِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ إِذَا أَسْلَمُوا " . وَعَلَّمَنَا التَّلْبِيَةَ . فَذَكَرَهُ . ¤ وَفِيهِ شَرْقِيُّ بْنُ قُطَامِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَالَ الْبَزَّارُ : إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالثَّابِتِ ، وَزَادَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ : وَكُنَّا نَمْنَعُ النَّاسَ أَنْ يَقِفُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحُولَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عُرَنَةَ ، فَإِنَّمَا كَانَ مَوْقِفُهُمْ بِبَطْنِ مُحَسِّرٍ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَرَقًا أَنْ تَخْطِفَهُمُ الْجِنُّ . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جب ہم بیت اللہ کا حج کرتے تھے تو ہم یہ پڑھا کرتے تھے : ” زبید قبیلے کا ہذیان ، جو مجبور ہو کر تیرے پاس آیا ہے ، وہ بچ بچا کر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے آیا ہے ، انہوں نے خوف کے عالم میں چٹیل زمین اور پہاڑ پار کیے ہیں ، اور وہ پیچھے ایسے بت چھوڑ کر آئے ہیں جو اکیلے رہ گئے ہیں اور خالی ( نا مراد ) ہیں “ ۔ اور آج ہم وہ پڑھتے ہیں جس کی تعلیم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دی ہے : ” میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے اللہ ! تیرا کوئی شریک نہیں ہے میں حاضر ہوں بے شک حمد اور نعمت تیرے لئے مخصوص ہیں اور بادشاہی بھی اور تیرا کوئی شریک نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ ہم قرن سے تعلق رکھتے ہیں ہم جب حج کے لئے آتے تھے تو ہم یہ کہتے تھے : ” میں تعظیم کا اظہار کرتے ہوئے حاضر ہوں ، اور تیری بارگاہ میں عذر پیش کرتا ہو ، جو زبید قبیلے کا ہذیان ہے ، وہ مجبور ہو کر تیری طرف آئے ہیں ، انہوں نے گھبراہٹ کے عالم میں چٹیل زمین اور پہاڑ پار کیے ہیں ، اور وہ بتوں کو ایسی حالت میں چھوڑ کر آئے ہیں کہ وہ اکیلے اور نامراد رہ گئے ہیں “ ۔ اور مجھے اپنے بارے میں یہ یاد ہے کہ ہم وادی محسر کے نشیبی حصے میں پڑاؤ کیے ہوئے تھے اس اندیشے کے تحت کہ کوئی جن ہمیں اچک نہ لے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بطن عرنہ سے ذرا اوپر کی طرف ہو جاؤ جب یہ اسلام قبول کر لیں تو یہ ( جنات ) تمہارے بھائی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تلبیہ کی بھی تعلیم دی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ ؟ اس روایت کی سند میں ایک راوی شرقی بن قطامی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ امام بزار کہتے ہیں اس کی سند ثابت نہیں ہے ۔
امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” ہم زمانہ جاہلیت میں لوگوں کو وقوف کرنے سے منع کرتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم ان کے اور عرنہ کے درمیان حائل ہو جائیں کیونکہ عرفہ کی شام ان کے وقوف کی جگہ ان کے وقوف کی جگہ وادی محسر کا نشیبی حصہ ہوتا تھا اس اندیشے کے تحت کہ کہیں جنات ان کو اچک نہ لیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5361
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (46/17 و 47 ) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (146 مجمع البحرين) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (157) اخرجه البزار فى المسند (1093)»
حدیث نمبر: 5362
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ النَّاسُ بَعْدَ إِسْمَاعِيلَ عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَكَانَ الشَّيْطَانُ يُحَدِّثُ النَّاسَ بِالشَّيْءِ يُرِيدُ أَنْ يَرُدَّهُمْ عَنِ الْإِسْلَامِ حَتَّى أَدْخَلَ عَلَيْهِمْ فِي التَّلْبِيَةِ : ¤ لَبَّيْـكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ إِلَّا شَرِيكٌ هُوَ لَكَ ¤ تَمْـلِكُهُ وَمَـا مَلَكَ قَالَ : فَمَا زَالَ حَتَّى أَخْرَجَهُمْ عَنِ الْإِسْلَامِ إِلَى الشِّرْكِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے بعد لوگ اسلام پر گامزن رہے شیطان لوگوں کو مختلف باتیں سکھاتا رہتا تھا اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ لوگوں کو اسلام سے ہٹا دے یہاں تک کہ شیطان نے ان لوگوں پر تلبیہ کے یہ کلمات داخل کیے : ” میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، البتہ اس شریک کا معاملہ مختلف ہے ، جو تیری ملکیت ہو جس کا تو مالک ہو ، اور جس چیز کا وہ مالک ہے ( اس کا بھی تو مالک ہو ) “ ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو شیطان مسلسل اسی طرح کرتا رہا یہاں تک کہ اس نے لوگوں کو اسلام سے نکال کر شرک کی طرف کر دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5362
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1095)»
حدیث نمبر: 5363
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ يُلَبِّي أَهْلُ الشِّرْكِ : ¤ لَبَّيْـكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ ¤ تَمْلِـكُهُ وَمَـا مَلَكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : هَلْ لَكُمْ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ شُرَكَاءَ فِيمَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنْتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنْفُسَكُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مشرکین کا تلبیہ یہ تھا : ” اے اللہ ! میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے ، البتہ اس شریک کا معاملہ مختلف ہے ، جس کا تو مالک ہو ، اور جس چیز کا وہ مالک ہے اس کا بھی تو مالک ہے “ ۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” کیا جو ( غلام اور کنیزیں ) تمہاری ملکیت ہیں ، جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے کیا وہ اس میں شراکت دار ہیں کہ تم ( اور تمہارے زیر ملکیت ) اس ( مال کی ملکیت ) میں برابر ہوں ، کیا تم ان کے بارے میں اسی طرح خوف رکھتے ہو جس طرح تم اپنے بارے میں خوف رکھتے ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں حماد بن شعیب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5363
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5364
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُلَبِّي : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ( لَبَّيْكَ ) إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ وَلَمْ يَنْسُبْهُ فَإِنْ كَانَ ابْنَ أَبِي خَالِدٍ فَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ وَإِنْ كَانَ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ فَهُوَ ضَعِيفٌ وَكِلَاهُمْ رَوَى عَنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تلبیہ پڑھتے تھے : ” میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے میں حاضر ہوں بے شک حمد اور نعمت تیرے لئے مخصوص ہے ، اور بادشاہی بھی ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے عبداللہ بن نمیر کی اسماعیل سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ہے اگر تو وہ ابن ابوخالد ہے ، تو پھر وہ صحیح کے رجال میں سے ایک ہے اگر وہ اسماعیل بن ابراہیم بن مہاجر ہے ، تو پھر وہ ضعیف ہے ان سب راویوں سے اس نے روایات نقل کی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5364
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (2768)»
حدیث نمبر: 5365
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ سَعْدًا رَحِمَهُ اللَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ : لَبَّيْكَ ذَا الْمَعَارِجِ . فَقَالَ : إِنَّهُ لَذُو الْمَعَارِجِ وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَقُولُ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوسلمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو سنا جو یہ کہہ رہا تھا : اے عظمت والی ذات ! میں حاضر ہوں تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بے شک وہ عظمت والی ذات ہے ، جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے تو ہم یہ کلمات نہیں پڑھتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں البتہ عبداللہ نامی راوی نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5365
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (724) اخرجه احمد فى المسند (172/1) اخرجه البزار فى المسند (1094)»
حدیث نمبر: 5366
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَتْ تَلْبِيَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ حَجًّا حَقًّا تَعَبُّدًا وَرِقًّا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا ، وَلَمْ يُسَمِّ شَيْخَهُ فِي الْمَرْفُوعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے الفاظ یہ تھے : ” میں حاضر ہوں ایسے حج کے لئے جو حق ہے عبادت ہے ، اور نرمی کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے ” مرفوع“ اور ” موقوف “ دونوں طرح سے نقل کی ہے ۔ ” مرفوع “ روایت میں انہوں نے اپنے استاد کا نام بیان نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5366
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1090 و1091)»
حدیث نمبر: 5367
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ الْقَصْوَى يُهِلُّ وَالنَّاسُ يُمِيلُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا يُرِيدُونَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُهَزَّمٍ وَلَمْ يَجْرَحْهُ أَحَدٌ وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اونٹنی قصوئی پر دیکھا آپ تلبیہ پڑھ رہے تھے ، اور لوگ ایک دوسرے کو ہلا رہے تھے ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مہزم ہے کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ۔ ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5367
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1092)»
حدیث نمبر: 5368
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِعَرَفَاتٍ فَلَمَّا قَالَ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ " . قَالَ : " إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں وقوف کیا جب آپ نے یہ کہا: ” میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں “ ۔ تو آپ نے یہ بھی کہا: ” بے شک بھلائی آخرت کی بھلائی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5368
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 5369
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا أَضْحَى مُؤْمِنٌ مُلَبِّيًا حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ إِلَّا غَابَتْ بِذُنُوبِهِ يَعُودُ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بھی مؤمن چاشت کے وقت سے سورج غروب ہونے تک تلبیہ پڑھتا ہے یہاں تک کہ جب سورج غروب ہوتا ہے ، تو وہ اس کے گناہوں سمیت غروب ہوتا ہے ، اور وہ مؤمن دوبارہ یوں ہو جاتا ہے جیسے وہ اس وقت تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5369
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5370
وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ تَلْبِيَتِهِ سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مَغْفِرَتَهُ وَرِضْوَانَهُ وَاسْتَعْتَقَهُ مِنَ النَّارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَضَعَّفَهُ خَلْقٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تلبیہ پڑھ کر فارغ ہوتے تھے تو اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت اس کی رضا مندی اور جہنم سے بچاؤ کی دعا مانگتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن محمد بن زائدہ ہے ، جسے امام أحمد نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے “ اور ایک مخلوق نے ( یعنی کئی افراد نے ) اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5370
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3721)»
حدیث نمبر: 5371
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا أَهَلَّ مُهِلٌّ قَطُّ وَلَا كَبَّرَ مُكَبِّرٌ قَطُّ إِلَّا بُشِّرَ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِالْجَنَّةِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تلبیہ پڑھنے والا جب بھی تلبیہ پڑھتا ہے ، اور تکبیر کہنے والا جب بھی تکبیر کہتا ہے ، تو اسے خوشخبری دی جاتی ہے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا جنت کی ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5371
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (7943)»
حدیث نمبر: 5372
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَانِي فَأَمَرَنِي أَنْ أُعْلِنَ بِالتَّلْبِيَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ مِنْ تَابِعِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، رَوَى عَنْهُ أَبُو حَازِمٍ سَلَمَةُ بْنُ دِينَارٍ ، وَلَمْ يَجْرَحْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں بلند آواز میں تلبیہ پڑھوں“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن عیاش ہے ، جو اہل مدینہ کے تابعین میں سے ایک ہے ابوحازم سلمہ بن دینار نے اس سے روایات نقل کی ہیں کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5372
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (2953)»
حدیث نمبر: 5373
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَنِي جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَفْعِ الصَّوْتِ فِي الْإِهْلَالِ ; فَإِنَّهُ مِنْ شِعَارِ الْحَجِّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جبرائیل نے مجھے تلبیہ پڑھتے ہوئے آواز بلند کرنے کی تلقین کی کیونکہ یہ حج کا مخصوص شعار ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5373
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5374
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كُنَّا نَخْرُجُ حُجَّاجًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا نَبْلُغُ مِنَ الْغَدِ الرَّوْحَاءَ حَتَّى تُبَحَّ حُلُوقُنَا - يَعْنِي : مِنْ رَفْعِ الصَّوْتِ بِالتَّلْبِيَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ صُهْبَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج ادا کرنے کے لئے نکلے جب ہم روحاء کے مقام پر پہنچے تو ہمارے حلق بیٹھ چکے تھے راوی کہتے ہیں : یعنی بلند آواز میں تلبیہ پڑھنے کی وجہ سے ایسا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صھبان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5374
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5375
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ خَلَّادِ بْنِ سُوَيْدٍ الْخَزْرَجِيِ أَخِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَالَ : أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ كُنْ عَجَّاجًا ثَجَّاجًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ نَفْسِهِ كَمَا تَرَاهُ وَجَعَلَ لَهُ تَرْجَمَةً ، ثُمَّ رَوَاهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ خَلَّادٍ كَمَا سَيَأْتِي ، وَلَعَلَّهُ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ أَبِيهِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم بن خلاد بن سوید خزرجی جن کا تعلق بنوحارث بن خزرج سے ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : آپ عجاج اور شجاج ہو جائیں ( یعنی تلبیہ پڑھنے والے اور قربانی کرنے والے ہو جائیں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابراہیم نامی راوی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں انہوں نے اس کے حالات بھی بیان کیے ہیں پھر اس کے حوالے سے اس کے والد خلاد کے حوالے سے روایت نقل کی ہے ۔ جیسا کہ آگے آئے گا ہو سکتا ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا سماع کیا ہو ، اور اپنے والد سے بھی کیا ہو اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5375
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (996)»
حدیث نمبر: 5376
وَعَنْ خَلَّادِ بْنِ سُوَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ كُنْ عَجَّاجًا ثَجَّاجًا " . - يَعْنِي بِالْعَجِّ : التَّلْبِيَةَ ، وَبِالثَّجِّ : الدِّمَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خلاد بن سوید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ! آپ عجاج اور شجاج ہو جائیں “ ۔
( راوی بیان کرتے ہیں ) عج سے مراد تلبیہ پڑھنا ہے ، اور شج سے مراد خون بہانا ( یعنی قربانی کرنا ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5376
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5377
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ أَنَّ جِبْرِيلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " كُنْ عَجَّاجًا ثَجَّاجًا " . وَالْعَجُّ : التَّلْبِيَةُ . وَالثَّجُّ : نَحْرُ الْبُدْنِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَصْحَابُ السُّنَنِ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ التَّلْبِيَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : آپ عجاج اور شجاج ہو جائیں ۔ راوی کہتے ہیں : ) عج سے مراد تلبیہ پڑھنا اور شج سے مراد قربانی کا جانور قربان کرنا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” سنن “ کے مولفین نے
یہ روایت نقل کی ہے ۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اپنے اصحاب کو یہ حکم دوں کہ وہ بلند آواز میں تلبیہ پڑھیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5377
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5378
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ الْحَجِّ : الْعَجُّ وَالثَّجُّ . فَأَمَّا الْعَجُّ : فَالتَّلْبِيَةُ . وَأَمَّا الثَّجُّ : فَنَحْرُ الْبُدْنِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ رَجُلٌ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب سے زیادہ فضیلت والا حج ، عج اور شج ہے “ ۔ ( شاید راوی کہتے ہیں : ) عج سے مراد تلبیہ پڑھنا ہے ، اور شج سے مراد قربانی کا جانور قربان کرنا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس میں ایک ضعیف شخص ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5378
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5086)»