حدیث نمبر: 5380
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّى فِي الْعُمْرَةِ حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ ، وَفِي الْحَجِّ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَحَدِيثُ الْعُمْرَةِ مَوْقُوفٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَلَهُ إِسْنَادٌ آخَرُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ سَعْدٍ وَابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عمرہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک تلبیہ پڑھتے رہے تھے ، جب تک آپ نے حجر اسود کا استلام نہیں کر لیا تھا اور حج میں اس وقت تک پڑھتے رہے تھے ، جب تک آپ نے جمرہ کی رمی نہیں کر لی تھی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے ، اور عمرہ کے بارے میں منقول روایت ” موقوف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے اس کی ایک اور سند بھی ہے ، جس میں عبداللہ بن مومل ہے ، جسے یحیی بن معین ابن سعد اور ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں یہ غلطی کر جاتا ہے ۔ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5380
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10967 و10990 و11235)»