کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: رجب کے روزوں کا بیان
عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ قَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَضْرِبُ أَكُفَّ الرِّجَالِ فِي صَوْمِ رَجَبٍ حَتَّى يَضَعُونَهَا فِي الطَّعَامِ وَيَقُولُ : رَجَبٌ وَمَا رَجَبٌ ، إِنَّمَا رَجَبٌ شَهْرٌ كَانَ يُعَظِّمُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ تُرِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ جَبَلَةَ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
خوشہ بن حربیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو رجب کے روزوں کے حوالے سے لوگوں کی ہتھیلیوں پر مارتے ہوئے دیکھا ہے یہاں تک کہ وہ ان کے ( ہاتھ ) کھانے میں کھانا رکھ دیتے تھے ، اور یہ کہتے تھے رجب یہ رجب کیا ہے ؟ رجب ایک ایسا مہینہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ اس کی تعظیم کیا کرتے تھے ، جب اسلام آ گیا تو اسے ترک کر دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن جبلہ ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5152
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ - قَالَ عُثْمَانُ : وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَجَبٌ شَهْرٌ عَظِيمٌ يُضَاعِفُ اللَّهُ فِيهِ الْحَسَنَاتِ مَنْ صَامَ يَوْمًا مِنْ رَجَبٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ سَنَةً وَمَنْ صَامَ مِنْهُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ غُلِّقَتْ عَنْهُ سَبْعَةُ أَبْوَابِ جَهَنَّمَ وَمَنْ صَامَ مِنْهُ ثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَمَنْ صَامَ عَشَرَةَ أَيَّامٍ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ وَمَنْ صَامَ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا نَادَى مُنَادٍ فِي السَّمَاءِ : قَدْ غُفِرَ لَكَ مَا مَضَى فَاسْتَأْنِفِ الْعَمَلَ . وَمَنْ زَادَ زَادَهُ اللَّهُ ، وَفِي رَجَبٍ حَمَلَ اللَّهُ نُوحًا فِي السَّفِينَةِ فَصَامَ رَجَبَ وَأَمَرَ مَنْ مَعَهُ أَنْ يَصُومُوا " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَدْ تَقَدَّمَ بِتَمَامِهِ وَالْكَلَامُ عَلَيْهِ فِي صِيَامِ عَاشُورَاءَ . ¤
محمد محی الدین
عبدالعزیز بن سعید نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے عثمان نامی راوی کہتے ہیں : ان کے والد کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رجب ایک عظیم مہینہ ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ نیکیوں کو کئی گنا کر دیتا ہے ، جو شخص رجب کے ایک دن کا روزہ رکھتا ہے ، تو گویا اس نے پورا سال روزے رکھے اور جو شخص اس کے سات دن روزے رکھتا ہے ، تو اس کے لئے جہنم کے ساتوں دروازے بند کر دیے جاتے ہیں جو شخص اس کے آٹھ دن روزے رکھتا ہے اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جو شخص دس دن روزے رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگتا ہے اللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کر دیتا ہے ، جو شخص پندرہ دن روزے رکھتا ہے ، تو آسمان سے ایک منادی پکار کر یہ کہتا ہے تمہارے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو گئی ہے تم نئے سرے سے عمل کرو اور جو شخص زیادہ ( نیکی ) کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ بھی اسے زیادہ ( اجر و ثواب عطا کرتا ہے ) اور رجب کے مہینے میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح علیہ السلام کو کشتی پر سوار کروایا تھا ، تو انہوں نے رجب کے مہینے کے روزے رکھے تھے ، اور اپنے ساتھیوں کو بھی روزے رکھنے کا حکم دیا تھا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو مکمل روایت اس سے پہلے گزر چکی ہے ، اور اس پر کلام بھی گزر چکا ہے ، جو عاشوراء کے روزے سے متعلق باب میں گزرا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5153
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا, قال الهيثمي:رواه الطبراني في الكبير، وفيه عثمان بن مطر الشيباني، وهو ضعيف جدا (3/188)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُتِمَّ صَوْمَ شَهْرٍ بَعْدَ رَمَضَانَ إِلَّا رَجَبَ وَشَعْبَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ الصَّفَّارُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے بعد کسی بھی مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے البتہ رجب اور شعبان کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ صفار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5154
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف