حدیث نمبر: 5155
عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي يَوْمِ خَمِيسٍ فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ فَدَعَاهُمْ إِلَى الْغَدَاءِ فَتَغَدَّى بَعْضُ الْقَوْمِ وَأَمْسَكَ بَعْضٌ ، ثُمَّ أَتَوْهُ فِي يَوْمِ الِاثْنَيْنِ فَفَعَلَ بِمِثْلِهَا ثُمَّ دَعَا بِمَائِدَتِهِ فَدَعَاهُمْ إِلَى الْغَدَاءِ فَأَكَلَ بَعْضُ الْقَوْمِ وَأَمْسَكَ بَعْضٌ ، فَقَالَ لَهُمْ أَنَسٌ : لَعَلَّكُمُ اثْنَايُونَ لَعَلَّكُمْ خَمِيسُونَ ؟ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ وَلَا يُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : مَا فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرَ الْعَامَ ثُمَّ يُفْطِرُ فَلَا يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ : مَا فِي نَفْسِهِ أَنْ يَصُومَ الْعَامَ وَكَانَ أَحَبُّ الصَّوْمِ إِلَيْهِ فِي شَعْبَانَ . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ رَشِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
انس بن سیرین بیان کرتے ہیں : ہم جمعرات کے دن سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے دسترخوان منگوایا اور لوگوں کو کھانا کھانے کی دعوت دی تو حاضرین میں سے کچھ لوگوں نے کھانا کھا لیا اور کچھ لوگوں نے کھانا نہیں کھایا پھر وہ لوگ پیر کے دن ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو پھر ایسا ہی ہوا انہوں نے دسترخوان منگوایا اور لوگوں کو کھانے کی دعوت دی تو کچھ لوگوں نے کھانا کھا لیا اور کچھ نے نہیں کھایا سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے کہا: شاید تم لوگ پیر کے ماننے والے ہو ، اور شاید تم لوگ جمعرات کے ماننے والے ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( نفلی ) روزے رکھا کرتے تھے ۔ آپ کوئی روزه ترک نہیں کرتے تھے ، یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بھی نفلی روزہ ترک نہیں کریں گے پھر آپ نفلی روزے ترک کرنا شروع کر دیتے تھے ، اور کوئی روزہ نہیں رکھتے تھے ، یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ اس سال آپ کوئی نفلی روزہ نہیں رکھیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ روزے شعبان کے تھے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن رشید ثقفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن رشید ثقفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5156
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَبُّ الشُّهُورِ إِلَيْكَ أَنْ تَصُومَهُ شَعْبَانُ ؟ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَكْتُبُ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ مَنِيَّةٍ تِلْكَ السَّنَةَ ، فَأُحِبُّ أَنْ يَأْتِيَنِي أَجَلِي وَأَنَا صَائِمٌ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کا تقریبا پورا مہینہ روزے رکھا کرتے تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! روزے رکھنے کے حوالے سے آپ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ مہینہ شعبان کا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ ہر جان کے حوالے سے اس سال کے مخصوص معاملات مقرر کر دیتا ہے ( یعنی اس سال میں جس نے مرنا ہے ۔ ان کی معلومات فرشتوں کو منتقل کر دیتا ہے ) تو مجھے یہ پسند ہے کہ جب میری موت کا حکم آئے ، تو میں نے روزہ رکھا ہوا ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 5157
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ : لَا يُفْطِرُ . وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : لَا يَصُومُ . وَكَانَ أَكْثَرُ صَوْمِهِ فِي شَعْبَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ صَهْبَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نفلی روزے رکھا کرتے تھے ، یہاں تک کہ ہم یہ کہتے تھے : اب آپ کوئی نفلی روزہ ترک نہیں کریں گے پھر آپ نفلی روزے ترک کر دیتے تھے ، یہاں تک کہ ہم یہ کہتے تھے اب آپ کوئی نفلی روزہ نہیں رکھیں گے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صھبان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صھبان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 5158
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5159
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( روزے رکھتے ہوئے ) شعبان کو رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5160
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ يَصِلُهُمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان اور رمضان کے روزے یوں رکھتے تھے کہ یہ ان دونوں کو ملا دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 5161
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَرُبَّمَا أَخَّرَ ذَلِكَ حَتَّى يَجْتَمِعَ عَلَيْهِ صَوْمُ السَّنَةِ ، وَرُبَّمَا أَخَّرَهُ حَتَّى يَصُومَ شَعْبَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دن روزے رکھا کرتے تھے ۔ بعض اوقات آپ انہیں مؤخر کر دیتے تھے ، یہاں تک کہ پورے سال کے روزے آپ کے لئے اکھٹے ہو جاتے تھے ۔ بعض اوقات آپ انہیں مؤخر کر دیتے تھے ، یہاں تک کہ شعبان میں انہیں رکھا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔