مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي صِيَامِ رَجَبٍ . باب: رجب کے روزوں کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ - قَالَ عُثْمَانُ : وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَجَبٌ شَهْرٌ عَظِيمٌ يُضَاعِفُ اللَّهُ فِيهِ الْحَسَنَاتِ مَنْ صَامَ يَوْمًا مِنْ رَجَبٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ سَنَةً وَمَنْ صَامَ مِنْهُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ غُلِّقَتْ عَنْهُ سَبْعَةُ أَبْوَابِ جَهَنَّمَ وَمَنْ صَامَ مِنْهُ ثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَمَنْ صَامَ عَشَرَةَ أَيَّامٍ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ وَمَنْ صَامَ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا نَادَى مُنَادٍ فِي السَّمَاءِ : قَدْ غُفِرَ لَكَ مَا مَضَى فَاسْتَأْنِفِ الْعَمَلَ . وَمَنْ زَادَ زَادَهُ اللَّهُ ، وَفِي رَجَبٍ حَمَلَ اللَّهُ نُوحًا فِي السَّفِينَةِ فَصَامَ رَجَبَ وَأَمَرَ مَنْ مَعَهُ أَنْ يَصُومُوا " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَدْ تَقَدَّمَ بِتَمَامِهِ وَالْكَلَامُ عَلَيْهِ فِي صِيَامِ عَاشُورَاءَ . ¤عبدالعزیز بن سعید نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے عثمان نامی راوی کہتے ہیں : ان کے والد کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رجب ایک عظیم مہینہ ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ نیکیوں کو کئی گنا کر دیتا ہے ، جو شخص رجب کے ایک دن کا روزہ رکھتا ہے ، تو گویا اس نے پورا سال روزے رکھے اور جو شخص اس کے سات دن روزے رکھتا ہے ، تو اس کے لئے جہنم کے ساتوں دروازے بند کر دیے جاتے ہیں جو شخص اس کے آٹھ دن روزے رکھتا ہے اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جو شخص دس دن روزے رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگتا ہے اللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کر دیتا ہے ، جو شخص پندرہ دن روزے رکھتا ہے ، تو آسمان سے ایک منادی پکار کر یہ کہتا ہے تمہارے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو گئی ہے تم نئے سرے سے عمل کرو اور جو شخص زیادہ ( نیکی ) کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ بھی اسے زیادہ ( اجر و ثواب عطا کرتا ہے ) اور رجب کے مہینے میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح علیہ السلام کو کشتی پر سوار کروایا تھا ، تو انہوں نے رجب کے مہینے کے روزے رکھے تھے ، اور اپنے ساتھیوں کو بھی روزے رکھنے کا حکم دیا تھا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو مکمل روایت اس سے پہلے گزر چکی ہے ، اور اس پر کلام بھی گزر چکا ہے ، جو عاشوراء کے روزے سے متعلق باب میں گزرا ہے ۔