عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ غُلَامًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَتَرَكَتْ حُلِيًّا ، أَفَأَتَصَدَّقُ بِهِ عَنْهَا ؟ قَالَ : " أُمُّكَ أَمَرَتْكَ بِذَلِكَ ؟ " . قَالَ : لَا . قَالَ : " فَأَمْسِكْ عَلَيْكَ حُلِيَّ أُمِّكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ ، وَتَرَكَتْ حُلِيًّا وَلَمْ تُوصِ ، فَهَلْ يَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ قَالَ : " احْبِسْ عَلَيْكَ مَالَكَ " . ¤ وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ : ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا یہاں موسیٰ نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اس نے کہا: یا رسول اللہ ! میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے ۔ انہوں نے زیور چھوڑا ہے کیا میں اس کو ان کی طرف سے صدقہ کر دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہاری ماں نے تمہیں اس بات کا حکم دیا تھا انہوں نے جواب دیا : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی ماں کے زیور کو اپنے پاس رکھو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تا ہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” میری والدہ کا انتقال ہو گیا انہوں نے زیور چھوڑا اس کے بعد انہوں نے وصیت نہیں کی کیا انہیں اس کا فائدہ ہو گا اگر میں ان کی طرف سے اسے صدقہ کر دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنا مال اپنے پاس رکھو “ ۔ امام طبرانی کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں اور امام أحمد کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تا ہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” میری والدہ کا انتقال ہو گیا انہوں نے زیور چھوڑا اس کے بعد انہوں نے وصیت نہیں کی کیا انہیں اس کا فائدہ ہو گا اگر میں ان کی طرف سے اسے صدقہ کر دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنا مال اپنے پاس رکھو “ ۔ امام طبرانی کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں اور امام أحمد کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ سَعْدًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَلَمْ تُوصِ أَفَيَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَلَيْهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَعَلَيْكَ بِالْمَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے وہ کوئی وصیت نہیں کر سکی ہیں اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا اس کا انہیں فائدہ ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ اور تم پر پانی ( کے حوالے سے صدقہ کرنا ) لازم ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ : جِئْتُ إِلَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : تُوُفِّيَتْ أُمِّي وَلَمْ تُوصِ وَلَمْ تَتَصَدَّقْ ، فَهَلْ يَقْبَلُ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ فَهَلْ يَنْفَعُهَا ذَلِكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ وَلَوْ بِكُرَاعِ شَاةٍ مُحْتَرِقٍ " . ¤ قُلْتُ : لِسَعْدٍ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے ، وہ کوئی وصیت نہیں کر سکیں اور صدقہ نہیں کر سکیں ، اگر میں اُن کی طرف سے صدقہ کر دوں ، تو کیا یہ قبول ہو گا ؟ کیا یہ انہیں فائدہ دے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! خواہ تم ایک جلے ہوئے پائے کو ( صدقہ کرو ، تو اس کا بھی انہیں اجر ملے گا ) “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، لیکن وہ اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کریب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کریب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ تَطَوُّعًا أَنْ يَجْعَلُهَا عَنْ أَبَوَيْهِ فَيَكُونُ لَهُمَا أَجْرُهَا وَلَا يَنْتَقِصُ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ الضَّبِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی شخص کوئی نفلی صدقہ کرے ، تو اُسے چاہیے کہ وہ اپنے والدین کے حوالے سے اُسے کرے ، اس طرح اُس کے والدین کو اُس کا اجر ملے گا ، اور اس شخص کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب ضبی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب ضبی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يَمُوتُ مِنْهُمْ مَيِّتٌ فَيَتَصَدَّقُونَ عَنْهُ بَعْدَ مَوْتِهِ إِلَّا أَهْدَاهَا لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى طَبَقٍ مِنْ نُورٍ ، ثُمَّ يَقِفُ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ فَيَقُولُ : يَا صَاحِبَ الْقَبْرِ الْعَمِيقِ ، هَذِهِ هَدِيَّةٌ أَهْدَاهَا إِلَيْكَ أَهْلُكَ فَاقْبَلْهَا ، فَيَدْخُلُ عَلَيْهِ فَيَفْرَحُ بِهَا وَيَسْتَبْشِرُ ، وَيَحْزَنُ جِيرَانُهُ الَّذِينَ لَا يُهْدَى إِلَيْهِمْ شَيْءٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو مُحَمَّدٍ الشَّامِيُّ قَالَ عَنْهُ الْأَزْدِيُّ : كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جس بھی گھرانے کے افراد میں سے ، کوئی شخص مر جائے اور وہ لوگ اُس کے مرنے کے بعد ، اُس کی طرف سے کوئی چیز صدقہ کریں ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نور کے بنے ہوئے طبق میں ، وہ چیز اس مردے کو تحفے کے طور پر دیتے ہیں ، اور پھر وہ قبر کے کنارے پر کھڑے ہو جاتے ہیں ، اور یہ کہتے ہیں : اے گہری قبر والے شخص ! یہ ہدیہ ہے ، جو تمہارے اہل خانہ نے تمہاری طرف بھیجا ہے ، تم اسے قبول کرو ! پھر وہ اس ہدیہ کو اس کے پاس لاتے ہیں ، تو وہ اس حوالے سے خوش ہوتا ہے ، اور خوشخبری حاصل کرتا ہے ، اور اُس کے پڑوسی غمگین ہو جاتے ہیں ، جن کی طرف کوئی چیز تحفے کے طور پر نہیں بھیجی گئی ہوتی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومحمد شامی ہے ، جس کے بارے میں ازدی نے یہ کہا: ہے : یہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومحمد شامی ہے ، جس کے بارے میں ازدی نے یہ کہا: ہے : یہ کذاب ہے ۔