حدیث نمبر: 4770
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يَمُوتُ مِنْهُمْ مَيِّتٌ فَيَتَصَدَّقُونَ عَنْهُ بَعْدَ مَوْتِهِ إِلَّا أَهْدَاهَا لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى طَبَقٍ مِنْ نُورٍ ، ثُمَّ يَقِفُ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ فَيَقُولُ : يَا صَاحِبَ الْقَبْرِ الْعَمِيقِ ، هَذِهِ هَدِيَّةٌ أَهْدَاهَا إِلَيْكَ أَهْلُكَ فَاقْبَلْهَا ، فَيَدْخُلُ عَلَيْهِ فَيَفْرَحُ بِهَا وَيَسْتَبْشِرُ ، وَيَحْزَنُ جِيرَانُهُ الَّذِينَ لَا يُهْدَى إِلَيْهِمْ شَيْءٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو مُحَمَّدٍ الشَّامِيُّ قَالَ عَنْهُ الْأَزْدِيُّ : كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جس بھی گھرانے کے افراد میں سے ، کوئی شخص مر جائے اور وہ لوگ اُس کے مرنے کے بعد ، اُس کی طرف سے کوئی چیز صدقہ کریں ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نور کے بنے ہوئے طبق میں ، وہ چیز اس مردے کو تحفے کے طور پر دیتے ہیں ، اور پھر وہ قبر کے کنارے پر کھڑے ہو جاتے ہیں ، اور یہ کہتے ہیں : اے گہری قبر والے شخص ! یہ ہدیہ ہے ، جو تمہارے اہل خانہ نے تمہاری طرف بھیجا ہے ، تم اسے قبول کرو ! پھر وہ اس ہدیہ کو اس کے پاس لاتے ہیں ، تو وہ اس حوالے سے خوش ہوتا ہے ، اور خوشخبری حاصل کرتا ہے ، اور اُس کے پڑوسی غمگین ہو جاتے ہیں ، جن کی طرف کوئی چیز تحفے کے طور پر نہیں بھیجی گئی ہوتی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومحمد شامی ہے ، جس کے بارے میں ازدی نے یہ کہا: ہے : یہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4770
درجۂ حدیث محدثین: موضوع