کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان :’’ تم پر روزے رکھنا لازم قرار دیا گیا ، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر لازم قرار دیا گیا تھا “
حدیث نمبر: 4771
عَنْ دَغْفَلِ بْنِ حَنْظَلَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ عَلَى النَّصَارَى صَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ ، وَكَانَ عَلَيْهِمْ مَلِكٌ فَمَرِضَ ، فَقَالَ : لَئِنْ شَفَاهُ اللَّهُ لِيَزِيدَنَّ عَشَرَةَ أَيَّامٍ ، ثُمَّ كَانَ عَلَيْهِمْ مَلِكٌ بَعْدَهُ فَأَكَلَ اللَّحْمَ فَوَجِعَ ، فَقَالَ : لَئِنْ شَفَاهُ اللَّهُ لِيَزِيدَنَّ ثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ ، ثُمَّ كَانَ عَلَيْهِمْ مَلِكٌ بَعْدَهُ فَقَالَ : مَا يَفْرُغُ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ أَنْ نُتِمَّهَا ، وَنَجْعَلَ صِيَامَنَا فِي الرَّبِيعِ ، فَصَارَتْ خَمْسِينَ يَوْمًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مَرْفُوعًا كَمَا تَرَاهُ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مَوْقُوفًا عَلَى دَغْفَلٍ ، وَرِجَالُ إِسْنَادِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا دغفل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عیسائیوں پر رمضان کے روزے فرض تھے ان کا ایک بادشاہ تھا وہ بیمار ہو گیا اس نے یہ نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے شفاء دی تو ان میں دس دن کا اضافہ کر دے گا پھر اس کے بعد ان پر ایک اور شخص بادشاہ بنا اس نے گوشت کھایا تو بیمار ہو گیا اس نے یہ کہا: اگر اللہ تعالیٰ نے اسے شفاء دی تو وہ آٹھ دن کے روزے زائد کر دے گا ، پھر اس کے بعد ایک اور شخص ان کا بادشاہ بنا اس نے کہا: ان دنوں میں جتنے باقی رہ گئے ہیں ہم انہیں مکمل کر دیں گے اور اپنے روزے موسمی بہار میں رکھ لیں گے تو یوں ان کے پچاس روزے ہو گئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسی طرح ” مرفوع “ حدیث کے طور پر نقل کی ہے ۔ جس طرح آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں جبکہ معجم کبیر میں امام طبرانی نے اسے سیدنا دغفل رضی اللہ عنہ پر ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اور ان دونوں کی سند کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4771
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4203) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (130 مجمع البحرين)»
حدیث نمبر: 4772
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْكُمْ صَوْمَ رَمَضَانَ وَلَمْ يَفْرِضْ عَلَيْكُمْ قِيَامَهُ ، وَإِنَّ قِيَامُهُ شَيْءٌ أَحْدَثْتُمُوهُ فَدُومُوا عَلَيْهِ ; فَإِنَّ نَاسًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ابْتَدَعُوا بِدْعَةً فَعَابَهُمُ اللَّهُ بِتَرْكِهَا فَقَالَ : ( وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ ) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر رمضان کے روزے فرض قرار دیے ہیں اس نے تم پر رمضان کا قیام ( یعنی تراویح ) فرض قرار نہیں دیا ہے ، اس کا قیام ایک ایسی چیز ہے کہ اگر تم اس کا آغاز کرو گے تو تم اس کو باقاعدگی سے کرنا کیونکہ بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے ایک بدعت ایجاد کی ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ترک کرنے کے حوالے سے ان پر اعتراض کرتے ہوئے یہ فرمایا : ” اور رہبانیت کو انہوں نے اختیار کیا تھا ہم نے ان پر لازم قرار نہیں دی تھی ان کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا حصول تھا “ ۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن ابومریم ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4772
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف