حدیث نمبر: 4766
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ غُلَامًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَتَرَكَتْ حُلِيًّا ، أَفَأَتَصَدَّقُ بِهِ عَنْهَا ؟ قَالَ : " أُمُّكَ أَمَرَتْكَ بِذَلِكَ ؟ " . قَالَ : لَا . قَالَ : " فَأَمْسِكْ عَلَيْكَ حُلِيَّ أُمِّكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ ، وَتَرَكَتْ حُلِيًّا وَلَمْ تُوصِ ، فَهَلْ يَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ؟ قَالَ : " احْبِسْ عَلَيْكَ مَالَكَ " . ¤ وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ : ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا یہاں موسیٰ نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اس نے کہا: یا رسول اللہ ! میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے ۔ انہوں نے زیور چھوڑا ہے کیا میں اس کو ان کی طرف سے صدقہ کر دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہاری ماں نے تمہیں اس بات کا حکم دیا تھا انہوں نے جواب دیا : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی ماں کے زیور کو اپنے پاس رکھو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تا ہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” میری والدہ کا انتقال ہو گیا انہوں نے زیور چھوڑا اس کے بعد انہوں نے وصیت نہیں کی کیا انہیں اس کا فائدہ ہو گا اگر میں ان کی طرف سے اسے صدقہ کر دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنا مال اپنے پاس رکھو “ ۔ امام طبرانی کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں اور امام أحمد کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4766
درجۂ حدیث محدثین: ورجال الطبراني رجال الصحيح، وفي إسناد أحمد: ابن لهيعة.
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (281،280/17) اخرجه احمد فى المسند (150/4)»