کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ہر شخص اس مٹی میں دفن ہوتا ہے ، جس سے اسے پیدا کیا گیا ہوتا ہے
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِالْمَدِينَةِ فَرَأَى جَمَاعَةً يَحْفِرُونَ قَبْرًا ، فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا : حَبَشِيٌّ قَدِمَ فَمَاتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، سِيقَ مِنْ أَرْضِهِ وَسَمَائِهِ إِلَى التُّرْبَةِ الَّتِي خُلِقَ مِنْهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر مدینہ منورہ میں ایک جگہ سے ہوا آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ ایک قبر کھود رہے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کے بارے میں دریافت کیا ، تو لوگوں نے بتایا : ایک حبشی شخص آیا تھا اور وہ انتقال کر گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اسے اس کی زمین اور آسمان سے اس مٹی کی طرف لایا گیا ہے ، جس سے اسے پیدا کیا گیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ ہے ، جو علی بن مدینی کا والد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4226
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام البزار فى المسند (842)»
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : مَرَّ بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ وَنَحْنُ نَحْفِرُ قَبْرًا فَقَالَ : " مَا تَصْنَعُونَ ؟ " ، فَقُلْنَا : نَحْفِرُ قَبْرًا لِهَذَا الْأَسْوَدِ ، فَقَالَ : " جَاءَتْ بِهِ مَنِيَّتُهُ إِلَى تُرْبَتِهِ " ، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ : تَدْرُونَ يَا أَهْلَ الْكُوفَةِ لِمَ حَدَّثْتُكُمْ بِهَذَا الْحَدِيثِ ؟ لِأَنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ خُلِقَا مِنْ تُرْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے ہم ایک قبر کھود رہے تھے ۔ آپ نے دریافت کیا : تم لوگ کیا کر رہے ہو ؟ ہم نے عرض کی : ہم ایک سیام نام شخص کے لئے قبر کھود رہے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کی موت اس مخصوص مٹی تک اسے لے آئی ہے ۔ ابواسامہ نامی راوی نے فرمایا : اے اہل کوفہ ! کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو میں نے تم لوگوں کو یہ حدیث کیوں بیان کی ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تخلیق بھی اللہ کے رسول کی تربت سے ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے عجلی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4227
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنْ حَبَشِيًّا دُفِنَ بِالْمَدِينَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دُفِنَ بِالطِّينَةِ الَّتِي خُلِقَ مِنْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک حبشی کو مدینہ منورہ میں دفن کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسے اس مٹی میں دفن کیا گیا ہے ، جس میں سے اسے پیدا کیا گیا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ خزاز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4228
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف