عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ، فَأَخَذَ جِبْرِيلُ بِثَوْبِهِ فَقَالَ : لَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن اُبی کی نماز جنازہ ادا کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام ( مطبوعہ نسخے میں یہ لفظ اسی طرح ہے ، ویسے دیگر روایات میں یہ بات مذکور ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن تھامنے والے فرد ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے ) نے آپ کا کپڑا پکڑ لیا اور عرض کی : آپ ان میں سے کسی ایک کی نماز جنازہ ادا نہ کریں اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : دُعِيَ عُمَرُ لِجِنَازَةٍ ، فَخَرَجَ فِيهَا أَوْ يُرِيدُهَا ، فَتَعَلَّقْتُ بِهِ فَقُلْتُ : اجْلِسْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ; فَإِنَّهُ مِنْ أُولَئِكَ ، فَقَالَ : نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ ، أَنَا مِنْهُمْ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَا أُبَرِّئُ أَحَدًا بَعْدَكَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ایک جنازے کے لئے بلایا گیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس میں شرکت کے لئے نکلنے لگے یا جانے لگے تو میں ان کے ساتھ لپٹ گیا اور میں نے عرض کی : آپ بیٹھ جائیں کیونکہ یہ شخص ان لوگوں میں سے ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں : کیا میں ان میں سے ہوں ؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی نہیں ! اور آپ کے بعد میں کسی کو بری قرار نہیں دوں گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔