حدیث نمبر: 4227
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : مَرَّ بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ وَنَحْنُ نَحْفِرُ قَبْرًا فَقَالَ : " مَا تَصْنَعُونَ ؟ " ، فَقُلْنَا : نَحْفِرُ قَبْرًا لِهَذَا الْأَسْوَدِ ، فَقَالَ : " جَاءَتْ بِهِ مَنِيَّتُهُ إِلَى تُرْبَتِهِ " ، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ : تَدْرُونَ يَا أَهْلَ الْكُوفَةِ لِمَ حَدَّثْتُكُمْ بِهَذَا الْحَدِيثِ ؟ لِأَنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ خُلِقَا مِنْ تُرْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے ہم ایک قبر کھود رہے تھے ۔ آپ نے دریافت کیا : تم لوگ کیا کر رہے ہو ؟ ہم نے عرض کی : ہم ایک سیام نام شخص کے لئے قبر کھود رہے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کی موت اس مخصوص مٹی تک اسے لے آئی ہے ۔ ابواسامہ نامی راوی نے فرمایا : اے اہل کوفہ ! کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو میں نے تم لوگوں کو یہ حدیث کیوں بیان کی ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تخلیق بھی اللہ کے رسول کی تربت سے ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے عجلی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4227
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف