مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ . باب: منافقین کی نماز جنازہ ادا کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 4225
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : دُعِيَ عُمَرُ لِجِنَازَةٍ ، فَخَرَجَ فِيهَا أَوْ يُرِيدُهَا ، فَتَعَلَّقْتُ بِهِ فَقُلْتُ : اجْلِسْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ; فَإِنَّهُ مِنْ أُولَئِكَ ، فَقَالَ : نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ ، أَنَا مِنْهُمْ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَا أُبَرِّئُ أَحَدًا بَعْدَكَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ایک جنازے کے لئے بلایا گیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس میں شرکت کے لئے نکلنے لگے یا جانے لگے تو میں ان کے ساتھ لپٹ گیا اور میں نے عرض کی : آپ بیٹھ جائیں کیونکہ یہ شخص ان لوگوں میں سے ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں : کیا میں ان میں سے ہوں ؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی نہیں ! اور آپ کے بعد میں کسی کو بری قرار نہیں دوں گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔