مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ . باب: منافقین کی نماز جنازہ ادا کرنے کی ممانعت
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ، فَأَخَذَ جِبْرِيلُ بِثَوْبِهِ فَقَالَ : لَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن اُبی کی نماز جنازہ ادا کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام ( مطبوعہ نسخے میں یہ لفظ اسی طرح ہے ، ویسے دیگر روایات میں یہ بات مذکور ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن تھامنے والے فرد ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے ) نے آپ کا کپڑا پکڑ لیا اور عرض کی : آپ ان میں سے کسی ایک کی نماز جنازہ ادا نہ کریں اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔