کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ’’ لا الہ الا اللہ “ والوں کی نماز جنازہ ادا کرنا
حدیث نمبر: 4221
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى زَانِيَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا وَوَلَدِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ صَاحِبُ نَافِعٍ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک زنا کرنے والی عورت اور اس کے بچے کی نماز جنازہ ادا کی تھی جو نفاس کے دوران انتقال کر گئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن زیاد ہے ، جو نافع کا شاگرد ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن زیاد ہے ، جو نافع کا شاگرد ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 4222
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بِئْرٍ فِيهَا أَسْوَدُ مَيِّتٌ ، قَالَ : فَأَشْرَفَ فِي الْبِئْرِ ، فَإِذَا هُوَ مُلْقًى فِي الْبِئْرِ ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَهُ مُلْقًى فِي الْبِئْرِ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ كَانَ جَافِيَ الدِّينِ ، يُصَلِّي أَحْيَانًا وَأَحْيَانًا لَا يُصَلِّي ، قَالَ : " وَيْحَكُمْ أَخْرِجُوهُ " ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَغُسِّلَ ، وَكُفِّنَ ، وَقَالَ : " احْمِلُوهُ " ، وَقَالَ : " إِنْ كَادَتِ الْمَلَائِكَةُ لَتَسْبِقُنَا " ، قَالَ : وَصَلَّى عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَطَاءٌ فِيهِ كَلَامٌ ، وَرَاوِيهِ لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بن سائب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک کنویں کے پاس سے ہوا جس میں ایک سیام فام شخص کی لاش موجود تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنویں میں جھانکا تو آپ کو کنویں میں وہ شخص نظر آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا وجہ ہے یہ کنویں میں کیوں پڑا ہوا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ شخص دین سے لاتعلق تھا کبھی نماز پڑھ لیتا تھا کبھی نہیں پڑھتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو تم لوگ اسے باہر نکالو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس شخص کو غسل بھی دیا گیا کفن بھی دیا گیا آپ نے ارشاد فرمایا : اس کی میت اٹھاؤ آپ نے فرمایا : فرشتے ہم سے سبقت لے جا رہے ہیں راوی بیان کرتے ہیں : آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ عطاء نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس سے روایت کرنے والا شخص بھی معروف نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ عطاء نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس سے روایت کرنے والا شخص بھی معروف نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 4223
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ غُلَامٌ شَابٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُهُ فَقَالَ : " تَشْهَدُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ : فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى أَبِيهِ ، فَقَالَ لَهُ : قُلْ كَمَا يَقُولُ لَكَ مُحَمَّدٌ . قَالَ : فَقَبِلَ ثُمَّ مَاتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ لِأَصْحَابِهِ ] : " صَلُّوا عَلَى أَخِيكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک نوجوان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ( وہ یہودی تھا ) وہ بیمار ہو گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کرنے کے لئے اس کے پاس تشریف لائے آپ نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : اس شخص نے اپنے والد کی طرف دیکھنا شروع کیا ، تو اس کے والد نے اس سے کہا: تم اس طرح کہہ دو جس طرح سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تم سے فرما رہے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس شخص نے کلمہ شہادت پڑھا اور پھر انتقال کر گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ اپنے بھائی کی نماز جنازہ ادا کرو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔