عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي ثَلَاثٍ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَكَانَ يَقْرَؤُهُ حَتَّى تُوُفِّيَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " نَعَمْ إِنِ اسْتَطَعْتَ " ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن منذر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں تین دن میں قرآن پڑھ لیا کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : تو وہ صاحب ، انتقال تک اسی طرح قرآن پڑھتے رہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جی ہاں ! اگر تم اس کی استطاعت رکھتے ہو“ ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جی ہاں ! اگر تم اس کی استطاعت رکھتے ہو“ ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ فَكَانَ يَخْرُجُ إِلَيْنَا فَيُحَدِّثُنَا فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَبْطَأْتَ عَلَيْنَا اللَّيْلَةَ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ طَرَأَ عَلَيَّ حِزْبِي مِنَ الْقُرْآنِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَهُ حَتَّى أَفْرُغَ مِنْهُ " ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا سَأَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : كَيْفَ تُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ ؟ فَقَالُوا : ثَلَاثٌ وَخَمْسٌ وَسَبْعٌ وَتِسْعٌ وَإِحْدَى عَشْرَةَ وَثَلَاثَ عَشْرَةَ ، وَمَا بَيْنَ قَ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ إِلَى آخِرِ الْمُفَصَّلِ حِزْبٌ حَسَنٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَقَالَ : هَكَذَا رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَخَالَفَهُ وَكِيعٌ وَقَالَ ابْنُ تَمَّامٍ وَغَيْرُهُمَا : فَرَوَوْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ جَدِّهِ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَمْرٍو لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
عثمان بن عمرو بن اوس نے ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں ثقیف قبیلے کے وفد میں شامل ہو کر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لاتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ بات چیت کرتے تھے ، ایک رات آپ کو ہمارے پاس آنے میں تاخیر ہو گئی ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو ہمارے پاس آنے میں تاخیر ہو گئی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں قرآن کا جو حصہ ( روزانہ کے معمول کے طور پر ) تلاوت کرتا ہوں ، وہ میں پڑھ رہا تھا ، تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اُسے ختم کرنے سے پہلے ہی اُسے درمیان میں چھوڑ دوں ، جب صبح ہوئی ، تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے دریافت کیا : آپ لوگ قرآن کو مختلف حصوں میں کیسے پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : تین میں ، پانچ میں ، سات میں ، نو میں ، گیارہ میں ، تیرہ میں ، اور ق والقرآن المجید “ سے لے کر ” مفصل “ کے آخر تک کا حصہ ( روزانہ کا معمول ) بنا لینا عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ولید بن مسلم نے اسے اسی طرح نقل کیا ہے ، جب کہ وکیع نے اسے اس کے برخلاف نقل کیا ہے ، کرام بن تمام اور دیگر حضرات نے اسے عبداللہ بن عبدالرحمن کے حوالے سے ، عثمان بن عبداللہ بن اوس کے حوالے سے ، اُن کے دادا سیدنا اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ عثمان بن عمرو کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ولید بن مسلم نے اسے اسی طرح نقل کیا ہے ، جب کہ وکیع نے اسے اس کے برخلاف نقل کیا ہے ، کرام بن تمام اور دیگر حضرات نے اسے عبداللہ بن عبدالرحمن کے حوالے سے ، عثمان بن عبداللہ بن اوس کے حوالے سے ، اُن کے دادا سیدنا اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ عثمان بن عمرو کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كَمْ أَقْرَأُ قَالَ : " فِي خَمْسَ عَشْرَةَ " قَالَ : إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ ! قَالَ : " فِي جُمُعَةٍ " ، قَالَ : إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ ! قَالَ : فَمَكَثَ كَذَلِكَ يَقْرَؤُهُ زَمَانًا حَتَّى كَبُرَ وَكَانَ يَعْصِبُ عَلَى عَيْنَيْهِ ثُمَّ رَجَعَ فَكَانَ يَقْرَؤُهُ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ فَقَالَ : يَا لَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأُولَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قیس بن ابوصعصعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کتنے عرصے میں ( پورا قرآن ) پڑھ لیا کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پندرہ دن میں ، انہوں نے عرض کی : میں اپنے اندر اس سے زیادہ کی قوت پاتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک ہفتے میں ، انہوں نے عرض کی : میں اپنے اندر اس سے زیادہ کی قوت پاتا ہوں ، راوی بیان کرتے ہیں : وہ کافی عرصے تک اسی طرح تلاوت کرتے رہے ، یہاں تک کہ جب اُن کی عمر زیادہ ہو گئی اور ان کی نظر کمزور ہو گئی ، تو پھر وہ پندرہ دن میں پورا قرآن پڑھتے تھے ، اور یہ کہا: کرتے تھے : اے کاش ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کی ہوئی ، پہلی رخصت کو قبول کر لیا ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كُتِبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ زَبَّانٍ وَفِيهِمَا كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار آیات کی تلاوت کرتا ہے ، قیامت کے دن اُسے انبیاء ، صدیقین ، شہداء کے ہمراہ شمار کیا جائے گا اور یہ بہترین ساتھی ہیں“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : ابن لہیعہ نے اسے زبان سے نقل کیا ہے ، اور ان دونوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : ابن لہیعہ نے اسے زبان سے نقل کیا ہے ، اور ان دونوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَا يُقْرَأُ الْقُرْآنُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ ، اقْرَؤُوهُ فِي سَبْعٍ وَيُحَافِظُ الرَّجُلُ عَلَى حِزْبِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابواحوص بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تین دن سے کم میں قرآن کو مکمل نہ پڑھا جائے ، تم لوگ اسے سات دن میں پڑھ لو ، اور آدمی کو اپنے روز کا حصہ باقاعدگی سے پڑھنا چاہیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي ثَلَاثٍ ، وَقَلَّمَا يَأْخُذُ مِنْهُ بِالنَّهَارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ تین دن میں پورا قرآن پڑھ لیتے تھے ، اور وہ دن میں اس کا کم ہی حصہ تلاوت کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں دو حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں دو حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ فَهُوَ رَاجِزٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص تین دن سے کم دن میں پورا قرآن پڑھ لیتا ہے ، وہ رجز پڑھنے والا ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَرَأَ بِ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ فَقَدْ قَرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي التَّفْسِيرِ فِي سُورَةِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ كَثِيرَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص نے سورت اخلاص کی تلاوت کی ، اُس نے ایک تہائی قرآن کی تلاوت کر لی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سورت اخلاص کی تفسیر سے متعلق باب میں ، اس بارے میں بہت سی احادیث آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سورت اخلاص کی تفسیر سے متعلق باب میں ، اس بارے میں بہت سی احادیث آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : مَنْ قَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَقَدْ أَكْثَرَ وَأَطَابَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَلَهُ حَدِيثٌ فِي هَذَا أَيْضًا يَأْتِي فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، وَآخَرُ يَأْتِي فِيمَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص سورت بقرہ کی تین آیات کی تلاوت کر لے ، تو اس نے بکثرت اور عمدہ کام کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عمرو بن سلمہ ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ایک روایت اس بارے میں منقول ہے ، جو آگے چل کر سورت بقرہ سے متعلق باب میں آئے گی ، اور اس باب کے آخر میں آئے گی کہ ” آدمی کو صبح اور شام کے وقت کیا پڑھنا چاہیے ؟ “ اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عمرو بن سلمہ ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ایک روایت اس بارے میں منقول ہے ، جو آگے چل کر سورت بقرہ سے متعلق باب میں آئے گی ، اور اس باب کے آخر میں آئے گی کہ ” آدمی کو صبح اور شام کے وقت کیا پڑھنا چاہیے ؟ “ اگر اللہ نے چاہا ۔