حدیث نمبر: 3608
عَنْ وَاثِلَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عُدَّ الْآيَ فِي التَّطَوُّعِ وَلَا تَعُدَّهُ فِي الْفَرِيضَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَبُو يَحْيَى التَّمِيمِيُّ الْكُوفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” نفل نماز میں ، تم آیات کو شمار کر لو ، لیکن فرض میں انہیں شمار نہ کرو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابویحیی تمیمی کوفی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابویحیی تمیمی کوفی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 3609
وَعَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى الشَّامِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ وَقَالَ الْبُخَارِيُّ : عِنْدَهُ مَنَاكِيرُ وَهَذَا لَا يَقْدَحُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص ایک سو آیات کی تلاوت کرتا ہے ، اُس کے لئے رات بھر عبادت کا ثواب نوٹ کیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن موسیٰ شامی ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور امام ابوحاتم فرماتے ہیں : اس سے منکر روایات منقول ہے ، اور یہ چیز قدح کا باعث نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن موسیٰ شامی ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور امام ابوحاتم فرماتے ہیں : اس سے منکر روایات منقول ہے ، اور یہ چیز قدح کا باعث نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 3610
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ صَلَّى فِي لَيْلَةٍ بِمِائَةِ آيَةٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ ، وَمَنْ صَلَّى بِمَائَتَيْ آيَةٍ فَإِنَّهُ يُكْتَبُ - أَظُنُّهُ - مِنَ الْمُتَّقِينَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص رات کو ، نماز میں ایک سو آیات کی تلاوت کرتا ہے ، اس کا شمار غافل لوگوں میں نہیں کیا جاتا اور جو شخص دو سو آیات کی تلاوت کرتا ہے “ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اُس کا نام پرہیز گاروں میں نوٹ کر لیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 3611
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَتَمِيمٍ الدَّارِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ فِي لَيْلَةٍ كُتِبَ لَهُ قِنْطَارٌ ، وَالْقِنْطَارُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يَقُولُ رَبُّكَ - عَزَّ وَجَلَّ - : اقْرَأْ وَارْقَ بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةً حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى آخِرِ آيَةٍ مِنْهُ يَقُولُ رَبُّكَ - عَزَّ وَجَلَّ - لِلْعَبْدِ : اقْبِضْ ، فَيَقُولُ الْعَبْدُ بِيَدِهِ : يَا رَبِّ أَنْتَ أَعْلَمُ يَقُولُ : لِهَذِهِ الْخُلْدُ وَلِهَذِهِ النَّعِيمُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ وَلَكِنَّهُ مِنْ رِوَايَتِهِ عَنِ الشَّامِيِّينَ وَهِيَ مَقْبُولَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ اور سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص رات میں دس آیات کی تلاوت کرتا ہے ، اس کے لئے ایک ڈھیر ( اجر و ثواب ) نوٹ کیا جاتا ہے ، اور ایک ڈھیر ، دنیا اور اس میں موجود سب چیزوں سے بہتر ہے ، جب قیامت کا دن ہو گا ، تو تمہارا پروردگار فرمائے گا : تم تلاوت کرو اور ہر ایک آیت کے عوض میں ایک درجہ پر چڑھتے جاؤ ! یہاں تک کہ آدمی کو جو آخری آیت آتی ہو گی ، وہ وہاں تک پہنچ جائے گا ، پروردگار بندے سے فرمائے گا : تم حاصل کر لو ! بندہ اپنے ہاتھ کے ذریعے عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! تو زیادہ بہتر جانتا ہے ، تو پروردگار فرمائے گا : اس کے لئے خلد ہے ، اس کے لئے نعیم ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ، لیکن یہ وہ روایت ہے ، جو اس نے اہل شام سے نقل کی ہے ، اور یہ روایت مقبول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ، لیکن یہ وہ روایت ہے ، جو اس نے اہل شام سے نقل کی ہے ، اور یہ روایت مقبول ہے ۔
حدیث نمبر: 3612
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ فِي لَيْلَةٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ مِائَةَ آيَةٍ كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ ، وَمَنْ قَرَأَ مِائَتَيْ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ أَرْبَعَمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْعَابِدِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ خَمْسَمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْحَافِظِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ سِتَّمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْخَاشِعِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ ثَمَانِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُخْبِتِينِ ، وَمَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ أَصْبَحَ لَهُ قِنْطَارٌ وَالْقِنْطَارُ أَلْفٌ وَمِائَتَا أُوقِيَّةٍ خَيْرٌ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، - أَوْ قَالَ : خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ - وَمَنْ قَرَأَ أَلْفَيْ آيَةٍ كَانَ مِنَ الْمُوجِبِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي الْعَيْزَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص رات میں دس آیات کی تلاوت کر لے گا ، اس کا نام ” غافلوں “ میں نوٹ نہیں کیا جائے گا ، اور جو شخص ایک سو آیات کی تلاوت کر لے گا ، اس کے لئے رات بھر کی عبادت کا ثواب نوٹ کیا جائے گا ، جو شخص دو سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا شمار ” قانتین “ میں کیا جائے گا ، جو شخص چار سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا نام ” عابدین “ میں شمار کیا جائے گا ، جو شخص پانچ سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا شمار ” حافظین “ میں کیا جائے گا ، جو شخص چھ سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا شمار ” خاشعین “ میں کیا جائے گا ، جو شخص آٹھ سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا شمار ” مخبطین “ میں کیا جائے گا ، جو شخص ایک ہزار آیات کی تلاوت کرے گا ، اُسے ” قنطار “ نصیب ہو گا ، اور ایک ” قنطار “ ایک ہزار دو سو ( یعنی بارہ سو ) اوقیہ کا ہو گا ، اور ہر اس چیز سے زیادہ بہتر ہو گا ، جو آسمان اور زمین کے درمیان موجود ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہر اس چیز سے زیادہ بہتر ہو گا ، جس پر سورج طلوع ہوتا ہے ، اور جو شخص دو ہزار آیات کی تلاوت کرے گا ، وہ ” موجبین “ میں سے ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عقبہ بن ابوالعیزار ہے ، اور یہ راوی ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عقبہ بن ابوالعیزار ہے ، اور یہ راوی ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 3613
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ فِي لَيْلَةٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ مِائَةَ آيَةٍ كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ ، وَمَنْ قَرَأَ مِائَتَيْ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ أَرْبَعَمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُخْبِتِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ أَصْبَحَ وَلَهُ قِنْطَارٌ - أَلْفٌ وَمِائَتَا أُوقِيَّةٍ ، الْأُوقِيَّةُ خَيْرٌ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ - ، وَمَنْ قَرَأَ أَلْفَيْ آيَةٍ كَانَ مِنَ الْمُوجِبِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي الْعَيْزَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص رات میں ، دس آیات کی تلاوت کرے گا ، اسے ” غافلین “ میں نوٹ نہیں کیا جائے گا ، جو شخص ایک سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کے لئے رات بھر کی عبادت کا ثواب نوٹ کیا جائے گا ، جو شخص دو سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا نام ” قانتین “ میں نوٹ کیا جائے گا ، جو شخص چار سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا نام ” مخبطین “ میں نوٹ کیا جائے گا ، جو شخص ایک ہزار آیات کی تلاوت کرے گا ، تو اس کے لئے ” قنطار “ کا ثواب نوٹ کیا جائے گا ، جو ایک ہزار دو سو ( یعنی بارہ سو ) اوقیہ کا ہو گا ، اور ہر اس چیز سے بہتر ہو گا ، جو آسمان اور زمین کے درمیان موجود ہے ، جو شخص دو ہزار آیات کی تلاوت کرے گا ، تو وہ ” موجبین “ میں سے ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عقبہ بن ابوالعیزار ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عقبہ بن ابوالعیزار ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 3614
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ مِائَةَ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ مِائَتَيْ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ إِلَى خَمْسِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ لَهُ قِنْطَارٌ مِنَ الْأَجْرِ الْقِيرَاطُ مِنَ الْقِنْطَارِ مِثْلُ التَّلِّ الْعَظِيمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَالْغَالِبُ عَلَيْهِ الضَّعْفُ ، وَقَدِ اخْتَلَفَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَابْنِ مَعِينٍ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص رات میں ایک سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا نام ” غافلین “ میں شمار نہیں کیا جائے ، جو شخص دو سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا نام ” قانتین “ میں نوٹ کیا جائے گا ، جو شخص ایک ہزار سے لے کر پانچ سو آیات تک کی تلاوت کرے گا ، اس کے لئے اجر کا ایک ” قنطار “ نوٹ کیا جائے گا ، اور اس ” قنطار “ میں سے ایک قیراط ، بڑے ٹیلے جتنا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے ، جس پر ضعیف ہونا غالب ہے ، اس راوی کے بارے میں امام أحمد اور امام یحیی بن معین کا قول مختلف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے ، جس پر ضعیف ہونا غالب ہے ، اس راوی کے بارے میں امام أحمد اور امام یحیی بن معین کا قول مختلف ہے ۔
حدیث نمبر: 3615
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ بِمِائَتَيْ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْعَابِدِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ حَمَّادُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ خُوَارٍ أَخُو حُمَيْدٍ قُلْتُ : ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص دس آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا نام ” غافلین “ میں نوٹ نہیں کیا جائے گا ، جو شخص ایک سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا نام ” قانتین “ میں نوٹ کیا جائے گا ، جو شخص دو سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا نام ” عابدین “ میں نوٹ کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ یہ فرماتے ہیں : حمید کا بھائی حماد بن حماد بن خوار ، اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ، میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ یہ فرماتے ہیں : حمید کا بھائی حماد بن حماد بن خوار ، اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ، میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3616
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ خَمْسِينَ آيَةً لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ مِائَةَ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ ثَلَاثَمِائَةِ آيَةٍ ، كُتِبَ لَهُ قِنْطَارٌ ، وَمَنْ قَرَأَ سَبْعَمِائَةٍ أَفْلَحَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص رات میں پچاس آیات کی تلاوت کر لے گا ، اس کا نام ” غافلین “ میں شمار نہیں کیا جائے گا ، جو شخص ایک سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا شمار ” قانتین “ میں ہو گا ، جو شخص تین سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کے لئے ایک ” قنطار “ نوٹ کیا جائے گا ، اور جو شخص سات سو آیات کی تلاوت کرے گا ، وہ کامیاب ہو جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔