مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابٌ ثَانٍ مِنْهُ . باب: اسی سے متعلق دوسری ( روایات کا بیان )
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ فَكَانَ يَخْرُجُ إِلَيْنَا فَيُحَدِّثُنَا فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَبْطَأْتَ عَلَيْنَا اللَّيْلَةَ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ طَرَأَ عَلَيَّ حِزْبِي مِنَ الْقُرْآنِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَهُ حَتَّى أَفْرُغَ مِنْهُ " ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا سَأَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : كَيْفَ تُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ ؟ فَقَالُوا : ثَلَاثٌ وَخَمْسٌ وَسَبْعٌ وَتِسْعٌ وَإِحْدَى عَشْرَةَ وَثَلَاثَ عَشْرَةَ ، وَمَا بَيْنَ قَ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ إِلَى آخِرِ الْمُفَصَّلِ حِزْبٌ حَسَنٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَقَالَ : هَكَذَا رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَخَالَفَهُ وَكِيعٌ وَقَالَ ابْنُ تَمَّامٍ وَغَيْرُهُمَا : فَرَوَوْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ جَدِّهِ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَمْرٍو لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤عثمان بن عمرو بن اوس نے ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں ثقیف قبیلے کے وفد میں شامل ہو کر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لاتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ بات چیت کرتے تھے ، ایک رات آپ کو ہمارے پاس آنے میں تاخیر ہو گئی ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو ہمارے پاس آنے میں تاخیر ہو گئی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں قرآن کا جو حصہ ( روزانہ کے معمول کے طور پر ) تلاوت کرتا ہوں ، وہ میں پڑھ رہا تھا ، تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اُسے ختم کرنے سے پہلے ہی اُسے درمیان میں چھوڑ دوں ، جب صبح ہوئی ، تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے دریافت کیا : آپ لوگ قرآن کو مختلف حصوں میں کیسے پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : تین میں ، پانچ میں ، سات میں ، نو میں ، گیارہ میں ، تیرہ میں ، اور ق والقرآن المجید “ سے لے کر ” مفصل “ کے آخر تک کا حصہ ( روزانہ کا معمول ) بنا لینا عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ولید بن مسلم نے اسے اسی طرح نقل کیا ہے ، جب کہ وکیع نے اسے اس کے برخلاف نقل کیا ہے ، کرام بن تمام اور دیگر حضرات نے اسے عبداللہ بن عبدالرحمن کے حوالے سے ، عثمان بن عبداللہ بن اوس کے حوالے سے ، اُن کے دادا سیدنا اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ عثمان بن عمرو کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔