مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابٌ ثَانٍ مِنْهُ . باب: اسی سے متعلق دوسری ( روایات کا بیان )
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كَمْ أَقْرَأُ قَالَ : " فِي خَمْسَ عَشْرَةَ " قَالَ : إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ ! قَالَ : " فِي جُمُعَةٍ " ، قَالَ : إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ ! قَالَ : فَمَكَثَ كَذَلِكَ يَقْرَؤُهُ زَمَانًا حَتَّى كَبُرَ وَكَانَ يَعْصِبُ عَلَى عَيْنَيْهِ ثُمَّ رَجَعَ فَكَانَ يَقْرَؤُهُ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ فَقَالَ : يَا لَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأُولَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا قیس بن ابوصعصعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کتنے عرصے میں ( پورا قرآن ) پڑھ لیا کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پندرہ دن میں ، انہوں نے عرض کی : میں اپنے اندر اس سے زیادہ کی قوت پاتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک ہفتے میں ، انہوں نے عرض کی : میں اپنے اندر اس سے زیادہ کی قوت پاتا ہوں ، راوی بیان کرتے ہیں : وہ کافی عرصے تک اسی طرح تلاوت کرتے رہے ، یہاں تک کہ جب اُن کی عمر زیادہ ہو گئی اور ان کی نظر کمزور ہو گئی ، تو پھر وہ پندرہ دن میں پورا قرآن پڑھتے تھے ، اور یہ کہا: کرتے تھے : اے کاش ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کی ہوئی ، پہلی رخصت کو قبول کر لیا ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔