مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابٌ ثَانٍ مِنْهُ . باب: اسی سے متعلق دوسری ( روایات کا بیان )
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : مَنْ قَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَقَدْ أَكْثَرَ وَأَطَابَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَلَهُ حَدِيثٌ فِي هَذَا أَيْضًا يَأْتِي فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، وَآخَرُ يَأْتِي فِيمَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص سورت بقرہ کی تین آیات کی تلاوت کر لے ، تو اس نے بکثرت اور عمدہ کام کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عمرو بن سلمہ ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ایک روایت اس بارے میں منقول ہے ، جو آگے چل کر سورت بقرہ سے متعلق باب میں آئے گی ، اور اس باب کے آخر میں آئے گی کہ ” آدمی کو صبح اور شام کے وقت کیا پڑھنا چاہیے ؟ “ اگر اللہ نے چاہا ۔