عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّكَ مَا كُنْتَ فِي صَلَاةٍ فَإِنَّكَ تَقْرَعُ بَابَ الْمَلِكِ ، وَمَنْ يُكْثِرُ قَرْعَ بَابِ الْمَلِكِ يُوشِكُ أَنْ يُفْتَحَ لَهُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب تک تم نماز کی حالت میں ہوتے ہو ، تو تم بادشاہ کے دروازے کو کھٹکھٹا رہے ہوتے ہو اور جو شخص بادشاہ کے دروازے کو بکثرت کھٹکھٹاتا رہتا ہے ، تو آخرکار وہ دروازہ اس کے لئے کھول دیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَلِابْنِ مَسْعُودٍ عِنْدَهُ أَيْضًا : مَثَلُ الَّذِي يُدِيمُ الصَّلَاةَ مَثَلُ الَّذِي يَقْرَعُ الْبَابَ وَمِنْ يُدِيمُ قَرْعَ الْبَابِ يُوشِكُ أَنْ يُفْتَحَ لَهُ .
محمد محی الدین
امام طبرانی نے ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت بھی نقل کی ہے : ” جو شخص باقاعدگی سے ( نفل ) نماز ادا کرتا ہے ، اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے ، جو دروازہ کھٹکھٹاتا رہتا ہے ، جو شخص باقاعدگی سے کھٹکھٹاتا رہتا ہے ، تو وہ ( دروازہ ) اس کے لئے کھول دیا جاتا ہے “ ۔
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ لَا يُصَلِّي الضُّحَى وَيُصَلِّي مَا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ مَعَ عَقَبَةٍ مِنَ اللَّيْلِ طَوِيلَةٍ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ .
محمد محی الدین
امام شعبی فرماتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ چاشت کی نماز ادا نہیں کرتے تھے ، وہ ظہر اور عصر کے درمیان نماز ادا کرتے تھے ، اور رات کے وقت طویل ( نفل ) نماز ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي حَمْلَةَ وَالْأَوْزَاعِيِّ قَالَا : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْجُدُ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ سَجْدَةٍ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ .
محمد محی الدین
علی بن ابوحملہ اور امام اوزاعی فرماتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روزانہ ایک ہزار سجدے کیا کرتے تھے ( شاید اس سے مراد یہ ہے ، ایک ہزار رکعت ادا کرتے تھے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند منقطع ہے ۔