عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَنْظَلَةُ السَّدُوسَيُّ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَنْظَلَةُ السَّدُوسَيُّ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ .
محمد محی الدین
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے دو رکعات ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حنظلہ سدوسی ہے ، جسے امام أحمد اور یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حنظلہ سدوسی ہے ، جسے امام أحمد اور یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ حَافَظَ عَلَى أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الْعَصْرِ بَنَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْمُؤَذِّنُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْمُؤَذِّنُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ .
محمد محی الدین
سیدہ ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص عصر سے پہلے چار رکعات باقاعدگی سے ادا کرے گا ، اللہ تعالی اس کے لئے جنت میں گھر بنا دے گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن سعد مؤذن ہے ، میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن سعد مؤذن ہے ، میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الْعَصْرِ حَرَّمَ اللَّهُ بَدَنَهُ عَلَى النَّارِ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَأَيْتُكَ تُصَلِّي وَتَدَعُ ! قَالَ : " لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ نَافِعُ بْنُ مِهْرَانَ وَغَيْرُهُ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمْ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ نَافِعُ بْنُ مِهْرَانَ وَغَيْرُهُ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمْ .
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جو شخص عصر سے پہلے چار رکعات ادا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے جسم کو جنم پر حرام قرار دے دیتا ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ یہ رکعات ادا کرتے بھی ہیں اور انہیں ترک بھی کر دیتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں میں سے ، کسی ایک کی مانند نہیں ہوں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نافع بن مہران ہے ، اس کے علاوہ اور راوی بھی ایسے ہیں کہ میں نے کسی کو اُن کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نافع بن مہران ہے ، اس کے علاوہ اور راوی بھی ایسے ہیں کہ میں نے کسی کو اُن کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : جِئْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاعِدٌ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَدْرَكْتُ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الْعَصْرِ لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَهُوَ فِي الْكَبِيرِ مُخْتَصَرًا بِلَفْظِ : " حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَهُوَ فِي الْكَبِيرِ مُخْتَصَرًا بِلَفْظِ : " حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے اصحاب میں سے کچھ افراد کے درمیان موجود تھے ، جن میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کا آخری حصہ پایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرما رہے تھے : ” جو شخص عصر سے پہلے چار رکعات ادا کر لے گا ، اُسے آگ نہیں چھوئے گی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ،
یہ روایت معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ ، ان الفاظ کے ساتھ منقول ہے : ” اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام قرار دیدے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ،
یہ روایت معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ ، ان الفاظ کے ساتھ منقول ہے : ” اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام قرار دیدے گا “ ۔
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَزَالُ أُمَّتِي يُصَلُّونَ هَذِهِ الْأَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الْعَصْرِ حَتَّى تَمْشِيَ عَلَى الْأَرْضِ مَغْفُورًا لَهَا ( مَغْفِرَةً ) حَتْمًا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میری امت کے لوگ مسلسل عصر سے پہلے یہ چار رکعات ادا کرتے رہیں گے ، یہاں تک کہ وہ زمین پر ایسے عالم میں چلیں گے کہ اُن کی حتمی طور پر مغفرت ہو چکی ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن ہارون بن عشرہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن ہارون بن عشرہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔