کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عصر کے بعد نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 3336
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : خَرَجَ عُمَرُ عَلَى النَّاسِ فَضَرَبَهُمْ عَلَى السَّجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى مَرَّ بِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ فَقَالَ : لَا أَدَعُهُمَا ، صَلَّيْتُهُمَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ، رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّ النَّاسَ لَوْ كَانُوا كَهَيْئَتِكَ لَمْ أُبَالِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَهَذَا لَفْظُهُ ، وَعُرْوَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ ، وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے پاس تشریف لائے اور انہیں عصر کے بعد دو رکعات ادا کرنے پر ، ان کی پٹائی کی ، یہاں تک کہ اُن کا گزر سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، تو سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان دونوں رکعات کو ترک نہیں کروں گا ، کیونکہ میں نے یہ دونوں رکعات ، اُس ہستی کے ساتھ ادا کی ہیں ، جو آپ سے بہتر ہیں ، اور وہ اللہ کے رسول ہیں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر لوگ تمہاری مانند ہو جائیں ، تو پھر میں اس کی پرواہ نہیں کروں گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، عروہ نامی راوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، امام طبرانی نے اسے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3336
درجۂ حدیث محدثین: منقطع
حدیث نمبر: 3337
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : أَخْبَرَنِي تَمِيمٌ الدَّارِيُّ - أَوْ أُخْبِرْتُ أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ - رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ نَهْيِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَأَتَاهُ عُمَرُ فَضَرْبَهُ بِالدِّرَّةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِ تَمِيمٌ أَنِ اجْلِسْ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ فَجَلَسَ عُمَرُ حَتَّى فَرَغَ تَمِيمٌ مِنْ صَلَاتِهِ فَقَالَ لِعُمَرَ : لِمَ ضَرَبَتْنِي ؟ قَالَ : لِأَنَّكَ رَكَعْتَ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَقَدْ نَهَيْتُ عَنْهُمَا قَالَ : إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُهُمَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّهُ لَيْسَ بِي إِثْمٌ - أَيُّهَا الرَّهْطُ - وَلَكِنِّي أَخَافُ أَنْ يَأْتِيَ بَعْدِي قَوْمٌ يُصَلُّونَ مَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ حَتَّى يَمُرُّوا بِالسَّاعَةِ الَّتِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُصَلَّى فِيهَا حَتْمًا وَصَلُّوا مَا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ( ثُمَّ يَقُولُونَ قَدْ رَأَيْنَا فُلَانًا وَفُلَانًا يُصَلُّونَ بَعْدَ الْعَصْرِ ) وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ فِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی : ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) مجھے یہ بات بتائی گئی : کہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عصر کے بعد نماز ادا کرنے سے منع کرنے کے باوجود ، دو رکعات ادا کیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اُن کے پاس آئے اور انہیں درے کے ذریعے مارنے لگے ، تو سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے انہیں اشارہ کیا کہ آپ بیٹھ جائیں ، سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے ، جب سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے ، تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے مجھے کیوں مارا ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیونکہ تم نے یہ دو رکعات ادا کی ہیں ، اور میں نے ان سے منع کیا ہے ، تو سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ دو رکعات اُس ہستی کے ہمراہ ادا کی ہیں ، جو آپ سے بہتر ہیں ، اور وہ اللہ کے رسول ہیں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! مجھے تمہارے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے ، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو عصر کے بعد سے لے کر مغرب کے وقت تک نمازیں ادا کرتے رہیں گے ، یہاں تک کہ وہ اس گھڑی میں بھی نماز ادا کر لیں گے جس گھڑی میں ، نماز ادا کرنے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے ، جس طرح کچھ لوگ ظہر اور عصر کو ملا دیتے ہیں اور پھر یہ کہتے ہیں : کہ ہم نے فلاں اور فلاں کو دیکھا کہ وہ عصر کے بعد بھی نماز ادا کر رہا تھا ۔
اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جس کے بارے میں عبدالملک بن شعیب نے یہ کہا: ہے : یہ ” ثقہ “ اور مامون ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3337
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3338
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ رَآهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ خَلِيفَةٌ رَكَعَ بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ ، فَمَشَى إِلَيْهِ فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ وَهُوَ يُصَلِّي كَمَا هُوَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ زَيْدٌ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَوَاللَّهِ لَا أَدَعُهُمَا أَبَدًا بَعْدُ إِذْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّيهِمَا قَالَ : فَجَلَسَ عُمَرُ إِلَيْهِ وَقَالَ : يَا زَيْدُ بْنَ خَالِدٍ لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُلَّمًا إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى اللَّيْلِ لَمْ أَضْرِبْ فِيهِمَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا جو اس وقت خلیفہ تھے کہ انہوں نے عصر کے بعد دو رکعات ادا کیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے ان کے پاس آئے اور انہیں درہ مارا ، وہ مسلسل نماز ادا کرتے رہے ، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین ! اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں رکعت کو ادا کرتے ہوئے دیکھ لینے کے بعد ، میں انہیں کبھی بھی ترک نہیں کروں گا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے بیٹھ گئے اور بولے : اے زید بن خالد ! مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ لوگ اس چیز کو نماز کے لئے سیڑھی بنا لیں گے ، یہاں تک کہ رات ہو جایا کرے گی ( یعنی وہ مغرب ہونے تک مسلسل نماز ادا کرتے رہیں گے ) میں ان دو رکعات کی وجہ سے پٹائی نہیں کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3338
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3339
وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَزَادَ : قَالَ أَبُو دِرَاسٍ : رَأَيْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ أَبِي مُوسَى يُصَلِّيهِمَا وَيَقُولُ : رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى يُصَلِّيهِمَا وَيَقُولُ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّيهِمَا فِي بَيْتِ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي دِرَاسٍ قَالَ فِيهِ ابْنُ مَعِينٍ : لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کے بعد دو رکعات ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ابودارس بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ابوبکر کو یہ دونوں رکعت ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، اُن کا یہ کہنا ہے : میں نے سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کو ان دونوں کو ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، اُن کا یہ کہنا ہے : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں یہ دو رکعات ادا کیا کرتے تھے ۔ اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابودارس کا معاملہ مختلف ہے ، اس کے بارے میں یحیی بن معین نے یہ کہا: ہے : کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3339
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3340
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَأَرْسَلَ إِلَى مَيْمُونَةَ ثُمَّ أَتْبَعُهُ رَجُلًا آخَرَ فَقَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُجَهِّزُ بَعْثًا وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ظَهْرٌ مِنَ الصَّدَقَةِ فَجَلَسَ يَقْسِمُ بَيْنَهُمْ فَحَبَسُوهُ حَتَّى أَرْهَقُوا الْعَصْرَ ، وَكَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ وَمَا شَاءَ اللَّهُ ، فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى مَا كَانَ يُصَلِّي قَبْلَهَا ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى الصَّلَاةَ أَوْ فَعَلَ شَيْئًا أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن حارث بن نوفل بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی ، پھر انہوں نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا ، پھر ایک اور شخص اس کے پیچھے بھیجا ، سیدہ میمونہ نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہم کو روانہ کرنے والے تھے ، آپ کے پاس صدقے کے اونٹ اتنے نہیں تھے ( کہ اُن کو روانہ کیا جا سکتا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے اور ان لوگوں کے درمیان تقسیم کرنے لگے ، اس وجہ سے آپ ( ظہر کے بعد کے نوافل یا سنتیں ) ادا نہیں کر پائے ، یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے دو رکعات ادا کرتے تھے ، اور جو اللہ کو منظور ہوتا تھا ، وہ ادا کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی ، پھر آپ واپس تشریف لائے اور وہ سنتیں ادا کیں ، جو آپ اُس سے پہلے ادا کیا کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی نماز ادا کرتے تھے ، اور جب بھی کوئی کام کرتے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے باقاعدگی سے کریں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حنظلہ سدوسی ہے ، اسے امام أحمد اور یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3340
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3341
وَعَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاتَتْهُ رَكْعَتَا الْعَصْرِ فَصَلَّاهُمَا بَعْدُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ حَنْظَلَةُ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عصر کی دو رکعات رہ گئی تھیں ، تو وہ دونوں رکعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عصر کی نماز کے ) بعد ادا کی تھیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں بھی ایک راوی حنظلہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3341
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3342
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : فَاتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَكْعَتَانِ قَبْلَ الْعَصْرِ فَلَمَّا انْصَرَفَ صَلَّاهُمَا ، ثُمَّ لَمْ يُصَلِّهِمَا بَعْدُ . ¤ قُلْتُ : لِعَائِشَةَ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا فِي الصَّحِيحِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَوَثَّقَهُ فِي أُخْرَى . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عصر سے پہلے کی دو رکعات رہ گئی تھیں ، جب آپ نے عصر کی نماز مکمل کی ، تو اُن دونوں رکعت کو ادا کر لیا ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی یہ دونوں رکعت ادا نہیں کی ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ” صحیح “ میں ، اس کے علاوہ حدیث منقول ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابویحیی القتات ہے ، جسے امام أحمد نے اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3342
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبراني باب العين باب الميم من اسمه محمد حديث 7743»
حدیث نمبر: 3343
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْعَصْرِ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْتَ صَلَاةً لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهَا ؟ قَالَ : " قَدِمَ مَالٌ فَشَغَلَنِي عَنْ رَكْعَتَيْنِ كُنْتُ أَرْكِعُهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَتَقْضِيهِمَا إِذَا فَاتَتَا ؟ قَالَ : " لَا " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهَا : أَفَتَقْضِيهِمَا إِذَا فَاتَتَا ؟ قَالَ : " لَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ فِي صَحِيحِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی ، پھر آپ گھر تشریف لے آئے ، آپ نے دو رکعات ادا کیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایک ایسی نماز ادا کی ہے ، جو آپ پہلے ادا نہیں کرتے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے پاس کچھ مال آ گیا تھا ، تو میں ظہر کے بعد والی دو رکعات ادا نہیں کر سکا ، وہ میں نے اب ادا کر لی ہیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب یہ دونوں رہ گئی تھیں ، تو کیا آپ نے ان کی قضاء ادا کی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! :
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت ” صحیح “ میں بھی منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جب یہ دونوں رہ گئی تھیں ، تو کیا آپ نے ان کی قضاء ادا کی ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اپنی ” صحیح “ میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3343
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح