کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو ظہر سے پہلے اور اس کے بعد نماز ادا کرے
حدیث نمبر: 3316
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيَّ رَأَيْتُهُ يُدِيمُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَقَالَ : " إِنَّهُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَلَا يُغْلَقُ مِنْهَا بَابٌ حَتَّى يُصَلَّى الظُّهْرُ ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ لِي فِي تِلْكَ السَّاعَةِ خَيْرٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں قیام کیا ، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ظہر سے پہلی کی چار رکعات باقاعدگی سے ادا کیا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے : ” جب سورج ڈھل جاتا ہے ، تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، تو ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا ، جب تک ظہر کی نماز ادا نہیں کر لی جاتی ، تو مجھے یہ بات پسند ہے کہ اس گھڑی میں میری بھلائی اوپر کی طرف جائے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3316
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3317
وَلِأَبِي أَيُّوبَ فِي الْكَبِيرِ قَالَ : نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيَّ شَهْرًا فَرَأَيْتُهُ إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ - أَوْ زَالَتْ - فَإِنْ كَانَ فِي عَمَلٍ مِنَ الدُّنْيَا رَفَضَ بِهِ وَإِنْ كَانَ نَائِمًا فَكَأَنَّمَا يُوقَظُ فَيَقُومُ وَيَغْتَسِلُ - أَوْ يَتَوَضَّأُ - ثُمَّ يَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يُتِمُّ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَيُتِمَّهُنَّ وَيُحْسِنُهُنَّ وَيَتَمَكَّنُ فِيهِنَّ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَنْطَلِقَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُكَ إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ زَالَتْ فَإِنْ كَانَ فِي يَدِكَ عَمَلٌ مِنَ الدُّنْيَا رَفَضْتَ بِهِ أَوْ كُنْتَ نَائِمًا فَكَأَنَّمَا تُوقَظُ فَتَغْتَسِلُ أَوْ تَتَوَضَّأُ ثُمَّ تَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تُتِمَّهُنَّ وَتَتَمَكَّنُ فِيهِنَّ وَتُحْسِنُهُنَّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ ابْوَابَ السَّمَاءِ وَأَبْوَابَ الْجَنَّةِ يُفْتَحْنَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَلَا يُوفِي أَحَدٌ بِهَذِهِ الصَّلَاةِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَصْعَدَ مِنِّي إِلَى رَبِّي فِي تِلْكَ السَّاعَةِ خَيْرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ ، وَفِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَا وَفِي الْأُولَى عُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتِّبٍ الضَّبِّيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ عَدِيٍّ قَالَ : وَهُوَ مَعَ ضَعْفِهِ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، معجم کبیر میں
یہ روایت منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ میرے ہاں مقیم رہے ، میں نے آپ کو دیکھا کہ جب سورج ڈھل جاتا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو اگر آپ دنیا کا کوئی کام کر رہے ہوتے ، تو اسے ایک طرف کر دیتے تھے ، اور اگر سو رہے ہوتے تھے ، تو بیدار ہو جاتے تھے ، پھر اٹھ کر غسل کرتے تھے ، یا وضو کرتے تھے ، پھر چار رکعات ادا کرتے تھے ، جن میں آپ رکوع مکمل کرتے تھے ، آپ انہیں مکمل اور اچھے طریقے سے ادا کرتے تھے ، اور انہیں اہتمام کے ساتھ ادا کرتے تھے ، جب آپ تشریف لے جانے لگے ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا کہ جب سورج ڈھل جاتا ہے ، تو اگر آپ کوئی دنیاوی کام کر رہے ہوں ، تو اسے ایک طرف کر دیتے ہیں ، اور اگر سو رہے ہوں تو یوں ہوتا ہے ، جیسے آپ کو بیدار کر دیا گیا ہے ، پھر آپ غسل کر کے یا وضو کر کے چار رکعات ادا کرتے ہیں ، جنہیں آپ اہتمام کے ساتھ مکمل اور اچھے طریقے سے ادا کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آسمان کے دروازے اور جنت کے دروازے ، اس گھڑی میں کھول دیے جاتے ہیں ، اس گھڑی میں کوئی بھی یہ نماز ادا نہیں کر رہا ہوتا ، تو مجھے یہ بات پسند ہے کہ اس گھڑی میں میری طرف سے میرے پروردگار کی بارگاہ میں کوئی بھلائی اوپر جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے ، جس نے علی بن یزید سے
یہ روایت نقل کی ہے ، ان دونوں کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ، ان دونوں کی توثیق بھی کی گئی ہے ، پہلی روایت میں ایک راوی عبید بن معتب ضبی ہے ، اور وہ متروک ہے ، البتہ ابن عدی کہتے ہیں : اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3317
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3318
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَوَى النَّهَارُ خَرَجَ إِلَى بَعْضِ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ وَقَدْ يَسَرَّ لَهُ فِيهَا طَهُورَهُ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ قَضَاهَا وَإِلَّا تَطَهَّرُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ كَبِدِ السَّمَاءِ قَدْرَ شِرَاكٍ قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَشَهَّدْ بَيْنَهُنَّ وَيُسَلِّمُ فِي آخِرِ الْأَرْبَعِ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَأْتِي الْمَسْجِدَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي تُصَلِّيهَا وَلَا نُصَلِّيهَا ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " مَنْ صَلَّاهُنَّ مِنْ أُمَّتِي فَقَدْ أَحْيَا لَيْلَتَهُ ، سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَيُسْتَجَابُ فِيهَا الدُّعَاءُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب دوپہر ہو جاتی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے کسی باغ میں تشریف لے جاتے تھے ، جہاں آپ کے لئے طہارت کا پانی تیار کیا جاتا تھا ، اگر آپ نے قضائے حاجت کرنا ہوتی تھی ، تو وہ کر لیتے تھے ، ورنہ وضو کر لیتے تھے ، جب آسمان پر سے سورج ڈھل جاتا تھا ، جو تسمے جتنا ( ڈھلا ) ہوتا ، تو آپ اٹھتے اور چار رکعات ادا کرتے تھے ، آپ ان کے درمیان تشہد نہیں پڑھتے تھے ، اور چوتھی رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے ، پھر آپ اٹھ جاتے تھے ، اور مسجد تشریف لے آتے تھے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ نماز کیا ہے ، جو آپ ادا کرتے ہیں ، اور ہم اسے ادا نہیں کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت کا جو شخص اس نماز کو ادا کرے گا ، تو گویا اس نے اس رات عبادت کی ، یہ ایک ایسی گھڑی ہے ، جس میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، اور اس میں دعا مستجاب ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نافع ابوہرمز ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3318
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3319
وَعَنْ صَفْوَانَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ كُنَّ لَهُ كَأَجْرِ عَشْرِ رَقَبَاتٍ " - أَوْ قَالَ : " أَرْبَعِ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعات ادا کرے گا ، تو یہ اس کے لئے دس گردنیں آزاد کرنے کی مانند ہو گا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے چار غلام آزاد کرنے کی مانند ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ، جن کے حالات میں نے ( کسی بھی کتاب میں تحریر ) نہیں پائے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3319
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3320
وَعَنْ أَيْمَنَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مَمْلُوكٌ قَبْلَ أَنْ أُعْتَقَ فَقُلْتُ لَهَا : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَيُّ سَاعَةٍ كَانَ أَكْثَرَ مَا يُصَلِّي فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَتْ : دِلُوكُ الشَّمْسِ حَتَّى تَمِيلَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایمن ، جو ابن ابوعمرہ کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں ان دنوں غلام تھا ، یہ میرے آزاد ہونے سے پہلے کی بات ہے ، میں نے ان سے کہا: اے ام المؤمنین ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کون سی گھڑی میں زیادہ نماز ادا کیا کرتے تھے ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جب سورج ڈھلنے کا وقت ہوتا تھا ، یہاں تک کہ وہ ڈھل جاتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مسلم بن ہرمز ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3320
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3321
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : مَا هَجَّرْتُ إِلَّا وَجَدْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں جب بھی دوپہر کے وقت آیا ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا کرتے ہی پایا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3321
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3322
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ صَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ كَمَنْ تَهَجَّدَ بِهِنَّ مِنْ لَيْلَتِهِ ، وَمَنْ صَلَّاهُنَّ بَعْدَ الْعِشَاءِ كَمِثْلِهِنَّ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نَاهِضُ بْنُ سَالِمٍ الْبَاهِلِيُّ وَغَيْرُهُ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمْ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ أَنَسٍ وَغَيْرِهِ فِي الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعِشَاءِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعات ادا کرتا ہے ، گویا وہ اس رات میں تہجد کی نماز میں وہ رکعات ادا کرتا ہے ، اور جو شخص عشاء کے بعد چار رکعات ادا کرتا ہے ، تو یہ شب قدر میں چار رکعات ادا کرنے کی مانند ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ناہض بن سالم باہلی ہے ، اور اس کے علاوہ اور راوی بھی ایسے ہیں ، جن کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام کے حوالے سے منقول احادیث آگے آئیں گی ، جو عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد ، نماز ادا کرنے کے بارے میں ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3322
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3323
وَعَنِ الْبَرَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعات ادا کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3323
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3324
وَعَنْ بَشِيرِ بْنِ أَبِي سَلْمَانَ عَنْ شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ صَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا كَانَ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ مَنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ " . ¤
محمد محی الدین
بشیر بن ابوسلیمان نے قانصار سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ کے حوالے سے ، اُن کے والد کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعات ادا کر لے ، تو یہ اولاد اسماعیل میں سے چار غلام آزاد کرنے کی مانند ہے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3324
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3325
وَعَنْ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ عَنْ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مِثْلَهُ . ¤ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِمَا عَمْرٌو الْأَنْصَارِيُّ وَالشَّيْخُ الْأَنْصَارِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
بشیر بن سلمان نے ، عمر و انصاری کے حوالے سے ، اُن کے والد کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے : یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند میں ایک راوی عمر و انصاری ہے ، اور ایک بزرگ انصاری ہے ، میں اِن دونوں سے واقف نہیں ہوں ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3325
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3326
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ صَلَّى الضُّحَى وَقَبْلَ الضُّحَى أَرْبَعًا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص چاشت کی نماز ادا کرتا ہے ، اور ظہر سے پہلے چار رکعات ادا کرتا ہے ، اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے کہ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3326
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3327
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " صَلَاةُ الْهَجِيرِ مِثْلُ صَلَاةِ اللَّيْلِ " فَسَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ حُمَيْدٍ عَنِ الْهَجِيرِ فَقَالَ : إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن حمید نے ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” دوپہر کی نماز کی مثال ، رات کی نماز کی مانند ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عبدالرحمن بن حمید سے لفظ ” ہجیر “ کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : جب سورج ڈھل جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3327
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3328
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُدَيْلٍ قَالَ : حَدَّثَنِي أَوْصَلُ النَّاسِ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فَرَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَقْرَأُ فِيهِنَّ بِسُورَتَيْنِ مِنَ الْمِئِينَ ، فَإِذَا تَجَاوَبَ الْمُؤَذِّنُونَ شَدَّ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
عبدالله بن بدیل بیان کرتے ہیں : مجھے اس شخص نے یہ بات بتائی ، جو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سب سے زیادہ قریب رہتے تھے ، انہوں نے یہ بات بیان کی : کہ جب سورج ڈھل جاتا تھا ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اٹھ کر چار رکعات ادا کر لیتے تھے ، وہ ان رکعت میں ” مئین “ سے تعلق رکھنے والی دو سورتیں تلاوت کرتے تھے ، جب مؤذن دینے لگتے تھے ، تو وہ اپنے لباس کو اوڑھ کر نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3328
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3329
وَعَنِ الْأَسْوَدِ وَمُرَّةَ وَمَسْرُوقٍ قَالُوا : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَيْسَ شَيْءٌ يَعْدِلُ صَلَاةَ اللَّيْلِ مِنْ صَلَاةِ النَّهَارِ إِلَّا أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَفَضْلُهُنَّ عَلَى صَلَاةِ النَّهَارِ كَفَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلَاةِ الْوَاحِدِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكَنَدِيُّ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
اسود ، مرہ اور مسروق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” دن کی کوئی بھی نماز ، رات کی نماز کے برابر نہیں ہے ، البتہ ظہر سے پہلی کی چار رکعات کا معاملہ مختلف ہے ، ان رکعت کو دن کی نمازوں پر وہ فضیلت حاصل ہے ، جو با جماعت نماز کو تنہا نماز ادا کرنے پر حاصل ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس میں ایک راوی بشر بن ولید کندی ہے ، جسے ایک جماعت نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3329
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3330
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ نَبْهَانَ وَقَدْ تُكُلِّمَ فِيهِ بِسَبَبِ أَنَّهُ اخْتَلَطَ ، وَوَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کے درمیان نماز ادا کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن نبہان ہے ، جس کے بارے میں اس حوالے سے کلام کیا گیا ہے کہ وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، ایک جماعت نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3330
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف