عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ ؟ قَالَ : " لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا ، أَوْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَلَا فِي السُّجُودِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” لوگوں میں سب سے برا چور وہ ہے ، جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ اپنی نماز کی چوری کیسے کرتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اس کے رکوع اور سجود کو مکمل ادا نہیں کرتا ہے ( راوی کو شک یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ رکوع میں پشت کو سیدھا نہیں کرتا ہے ، اور سجود میں بھی نہیں کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَسْوَأَ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ صَلَاتَهُ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَسْرِقُهَا ؟ قَالَ : لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک سب سے برا چور وہ ہے ، جو اپنی نماز کو چوری کرتا ہے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ اس کو کیسے چوری کرتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ اس کے رکوع اور اس کے سجود کو مکمل ادا نہیں کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَسْوَأَ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ ؟ قَالَ : " لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينَ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَأَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ دُحَيْمٌ وَقَالَ النَّسَائِيُّ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” سب سے برا چور وہ ہے ، جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ اپنی نماز میں کیسے چوری کرتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ اس کے رکوع اور سجود کو مکمل نہیں کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن حبیب بن ابوالعشرین ہے ، جسے امام أحمد امام ابوحاتم اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جب کہ دحیم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ قوی نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن حبیب بن ابوالعشرین ہے ، جسے امام أحمد امام ابوحاتم اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جب کہ دحیم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ قوی نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَسْرَقُ النَّاسِ الَّذِي يَسْرِقُ صَلَاتَهُ " قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يَسْرِقُ صَلَاتَهُ ؟ قَالَ : " لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا ، وَأَبْخَلُ النَّاسِ مَنْ بَخِلَ بِالسَّلَامِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : سب سے بڑا چور وہ ہے جو اپنی نماز کو چوری کرتا ہے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ اپنی نماز کو کیسے چوری کرتا ہے آپ نے فرمایا : وہ اس کے رکوع اور اس کے سجود کو مکمل نہیں کرتا ہے ، اور سب سے بڑا بخیل وہ ہے ، جو سلام کرنے کے حوالے سے بخیل ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى صَلَاةِ رَجُلٍ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِيمَا بَيْنَ رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی نماز کی طرف نظر نہیں کرتا جو رکوع اور سجود کے درمیان اپنی پشت کو سیدھا نہیں رکھتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے عبداللہ بن زید حنفی کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور نقل کی ہے ، اور میں نے کسی کو اس شخص کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے عبداللہ بن زید حنفی کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور نقل کی ہے ، اور میں نے کسی کو اس شخص کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ الْحَنَفِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى صَلَاةِ عَبْدٍ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِيمَا بَيْنَ رُكُوعِهَا وَسُجُودِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلق بن علی حنفی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ ایسے بندے کی نماز کی طرف نظر نہیں کرتا ہے ، جو رکوع اور سجدے کے درمیان اپنی پشت کو سیدھا نہیں کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَى رَجُلًا فِي الْمَسْجِدِ لَا يُتِمُّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ رَجُلٍ لَا يُتِمُّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ عَنْ عَبَّادٍ الْكِرْمَانِيِّ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے مسجد میں ایک شخص کو دیکھا جو رکوع اور سجود مکمل ادا نہیں کر رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسے آدمی کی نماز قبول نہیں ہوتی ہے ، جو رکوع اور سجود کو مکمل نہیں کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے ، اسے ابراہیم نے عباد کرمانی سے نقل کیا ہے ۔ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے ، اسے ابراہیم نے عباد کرمانی سے نقل کیا ہے ۔ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ صَلَاةً لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ آدمی اس طرح سے نماز ادا کرے کہ وہ اس کے رکوع اور سجود کو مکمل نہ کرے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔