کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: فجر کی نماز میں قرأت
حدیث نمبر: 2710
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعَهُ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ( ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ ) . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سماک بن حرب نے اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پچھے نماز ادا کی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی نماز میں سورہ ق والقرآن المجید کی تلاوت کرتے ہوئے سنا
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2710
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند المدنيين حديث رجل من ابل المدينة عن نبي صلى الله عليه وسلم 16101»
حدیث نمبر: 2711
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِـ يس . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں سورت یسین پڑھتے تھے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2711
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2712
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِالْوَاقِعَةِ وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ . ¤ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُ يس رِجَالُ الصَّحِيحِ وَرِجَالُ الْوَاقِعَةِ فِيهِمْ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ قَالَ بَعْضُهُمْ : لِأَنَّهُ كَانَ مَحْدُودًا وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے ایک روایت میں یہ بات منقول ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں سورۃ واقعہ اور اس جیسی دوسری سورتیں پڑھتے تھے یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں سورہ یسین والی روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اور سورہ واقعہ والی روایت میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کاسب ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے بعض حضرات نے یہ کہا: ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس پر حد جاری ہوئی تھی ابن حبان نے اس راوی کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2712
درجۂ حدیث محدثین: إسناد حديث سورة يس صحيح، وإسناد حديث سورة الواقعة حسن.
حدیث نمبر: 2713
وَعَنِ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بِسُورَةِ الرُّومِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَقِيلَ فِيهِ : إِنَّهُ كَثِيرُ الْخَطَأِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اغرمزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں سورت روم کی تلاوت کی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مؤمل بن اسماعیل ہے ، اور وہ ” ثقہ “ ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے وہ بکثرت غلطی کرتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2713
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2714
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخَيْبَرَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ يَؤُمُّ النَّاسَ ، فَقَرَأَ فِي الرَّكْعَةِ الْأَوْلَى بِسُورَةِ مَرْيَمَ وَفِي الثَّانِيَةِ : وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ أَحْسَبُهُ قَالَ : فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں موجود تھے بنوغفار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ( مدینہ منورہ میں ) لوگوں کی امامت کرتے تھے انہوں نے پہلی رکعت میں سورت مریم کی اور دوسری رکعت میں سورت ویل للمطففین کی تلاوت کی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ” فجر کی نماز میں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2714
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2715
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ أَنْ يُقْرَأَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بِـ ( وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ) ( وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا کہ صبح کی نماز میں سورت واللیل اور سورت والشمس کی تلاوت کی جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2715
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2716
وَعَنْ رِفَاعَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَقْرَأْ فِي الصُّبْحِ بِدُونِ عَشْرِ آيَاتٍ وَلَا تَقْرَأْ فِي الْعِشَاءِ بِدُونِ عَشْرِ آيَاتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رفاعہ انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” صبح کی نماز میں دس آیات سے کم کی تلاوت نہ کرو اور عشاء کی نماز میں دس آیات سے کم کی تلاوت نہ کرو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2716
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2717
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ صَلَّى فِي بَعْضِ مَسَاجِدِ بَنِي أَسَدٍ الْفَجْرَ فَصَلَّى بِهِمْ إِمَامُهُمْ بِأَطْوَلِ سُورَتَيْنِ فِي الْمُفَصَّلِ عَلَى تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ : أَلَا أَرَاكَ شَابًّا تَقْرَأُ بِهَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ فِي هَذِهِ الصَّلَاةِ وَأَنْتَ شَابٌّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمْرِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے بنواسد کی کسی مسجد میں فجر کی نماز اد کی ان لوگوں کے امام نے انہیں نماز پڑھاتے ہوئے مفصل سورتوں سے تعلق رکھنے والی دو طویل سورتیں پڑھائیں تاکہ سیدنا عبداللہ تعالی کی دلجوئی ہو جب اس نے نماز مکمل کی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم نوجوان ہو اس نماز میں یہ دونوں سورتیں تم اس وقت پڑھ سکتے ہو جب تم نوجوان ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن وہ عمر کے آخری حصے میں اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2717
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف بوجہ اختلاطِ راوی
حدیث نمبر: 2718
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : صَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْفَجْرِ فِي سَفَرٍ فَقَرَأَ : ( قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ) وَ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) ثُمَّ قَالَ : " قَرَأْتُ بِكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ، رُبُعَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران فجر کی نماز پڑھاتے ہوئے اس میں سورت الکافرون اور سورت اخلاص کی تلاوت کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے تمہارے لئے ایک تہائی قرآن اور ایک چوتھائی قرآن کی تلاوت کی ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن ابوجعفر ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2718
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔