کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان جو اپنی نماز کو مکمل نہیں کرتا ہے ، اور رکوع یا سجدہ بھول جاتا ہے
حدیث نمبر: 2727
عَنْ هَانِئِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الصَّدَفِيِّ قَالَ : حَجَجْتُ زَمَانَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَجَلَسْتُ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُهُمْ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فِي هَذَا الْعَمُودِ فَعَجَّلَ قَبْلَ أَنْ يُتِمَّ صَلَاتَهُ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ هَذَا لَوْ مَاتَ لَمَاتَ وَلَيْسَ مِنَ الدِّينِ عَلَى شَيْءٍ ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيُخَفِّفُ صَلَاتَهُ وَيُتِمُّهَا " قَالَ : فَسَأَلْتُ عَنِ الرَّجُلِ مَنْ هُوَ ؟ فَقِيلَ لِي : عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ وَفِيهِ الْبَرَاءُ بْنُ عُثْمَانَ وَلَمْ يُعْرَفْ . ¤
محمد محی الدین
ہانی بن معاویہ صدفی بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ، میں حج کے لئے آیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں بیٹھ گیا وہاں ایک صاحب لوگوں کو حدیث بیان کر رہے تھے انہوں نے بتایا ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے اسی دوران ایک شخص آیا اور اس ستون کے پاس نماز ادا کرنے لگا اس نے نماز مکمل طور پر ادا نہیں کی بلکہ جلدی سے ادا کر لی پھر وہ چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر یہ شخص ( اسی حالت میں ) مر گیا تو وہ یوں مرے گا کہ اس کا دین کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہو گا آدمی کو نماز مختصر ادا کرنی چاہیے لیکن اسے مکمل کرنا چاہیے راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : یہ صاحب کون ہیں ؟ ( جو یہ حدیث بیان کر رہے ہیں ) تو مجھے بتایا گیا یہ سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی براء بن عثمان ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2727
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند الشاميين حديث عثمان بن حنيف حديث 16926»
حدیث نمبر: 2728
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْعَرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى رَجُلًا لَا يُتِمُّ رُكُوعَهُ وَيَنْقُرُ فِي سُجُودِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ مَاتَ عَلَى حَالِهِ هَذِهِ مَاتَ عَلَى غَيْرِ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ الَّذِي لَا يُتِمُّ رُكُوعَهُ وَيَنْقُرُ فِي سُجُودِهِ مَثَلُ الْجَائِعِ يَأْكُلُ التَّمْرَةَ وَالتَّمْرَتَيْنِ لَا تُغْنِيَانِ عَنْهُ شَيْئًا " . ¤ قَالَ أَبُو صَالِحٍ : قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ : مَنْ حَدَّثَ بِهَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : أُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَشُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ سَمِعُوهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعبداللہ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ رکوع مکمل نہیں کر رہا تھا اور سجدے میں ٹھونگ مارتا تھا اور وہ نماز ادا کر رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر یہ اس حالت میں مر گیا تو یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت کے علاوہ پر مرے گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص رکوع مکمل نہیں کرتا اور سجدے میں ٹھونگ مارتا ہے اس کی مثال اس بھوکے شخص کی مانند ہے ، جو ایک یا دو کھجوریں کھا لیتا ہے تو وہ اس کی ضرورت پوری نہیں کرتی ہیں ۔ ابوصالح بیان کرتے ہیں : میں نے ابوعبداللہ سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث کسی نے بیان کی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : لشکروں کے امیروں نے یعنی سیدنا عمرو بن العاص نے سیدنا خالد بن ولید نے اور سیدنا شرحبیل بن حسنہ نے ان حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ حدیث سنی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2728
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2729
وَعَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ أَبْصَرَ رَجُلًا لَا يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَلَا السُّجُودَ فَقَالَ : لَوْ مَاتَ هَذَا لَمَاتَ عَلَى غَيْرِ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْكَبِيرِ : لَمَاتَ عَلَى غَيْرِ مِلَّةِ عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع اور سجود مکمل نہیں کر رہا تھا تو انہوں نے فرمایا : کہ اگر یہ اسی حالت میں مر گیا تو یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت کے علاوہ پر مرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے معجم کبیر میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تو یہ سیدنا عیسیٰ کی ملت کے علاوہ پر مرے گا “ ۔ اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2729
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2730
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ وَأَنَا حَاضِرٌ : " لَوْ كَانَ لِأَحَدِكُمْ هَذِهِ السَّارِيَةُ لَكَرِهَ أَنْ يُخْدَعَ ، كَيْفَ يَعْمَلُ أَحَدُكُمْ فَيَخْدَعُ صَلَاتَهُ الَّتِي هِيَ لِلَّهِ ؟ فَأَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ إِلَّا تَامًّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا ، میں اس وقت وہاں موجود تھا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) ” اگر کسی شخص کا یہ ستون ہو ، تو وہ اس بات کو ناپسند کرے گا کہ اس کے ساتھ دھوکہ کیا جائے تو پھر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ کوئی شخص عمل کرتا ہے ، تو اس نماز میں دھوکہ کرتا ہے ، جو اللہ تعالی کے لئے مخصوص ہے تم لوگ اپنی نماز کو مکمل ادا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف مکمل چیز کو قبول کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2730
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2731
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ وَقَالَ : " يَا عَلِيُّ مَثَلُ الَّذِي لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي صَلَاتِهِ كَمَثَلِ حُبْلَى حَمَلَتْ فَلَمَّا دَنَا نِفَاسُهَا أَسْقَطَتْ ، فَلَا هِيَ ذَاتُ حَمْلٍ وَلَا هِيَ ذَاتُ وَلَدٍ ! ! " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى - قُلْتُ : وَفِي الصَّحِيحِ مِنْهُ النَّهْيُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ - وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات سے منع کیا ہے کہ میں رکوع کے عالم میں تلاوت کروں آپ نے ارشاد فرمایا : اے علی وہ شخص جو نماز میں اپنی پشت کو سیدھا نہیں کرتا ہے ، اس کی مثال حاملہ عورت کی مانند ہے ، جو حاملہ ہو جاتی ہے ، اور جب اس کے نفاس کا وقت قریب آتا ہے ، تو وہ اس وقت مردہ بچے کو جنم دیتی ہے ، تو اب وہ نہ تو حاملہ رہی ہے ، اور نہ ہی بچے والی رہی ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا کچھ حصہ منقول ہے ، جو رکوع کے دوران قرأت کرنے کی ممانعت کے بارے میں ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2731
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2732
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّى فَلَمْ يُتِمَّ صَلَاتَهُ خُشُوعَهَا وَلَا رُكُوعَهَا وَأَكْثَرَ الِالْتِفَاتَ لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ ، وَمَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِنْ كَانَ عَلَى اللَّهِ كَرِيمًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب بندہ نماز ادا کرے اور اپنی نماز کے خشوع اور اس کے رکوع کو مکمل نہ کرے اور بکثرت ادھر اُدھر توجہ کرے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ہے ، اور جو شخص تکبر کے طور پر اپنے کپڑے کو لٹکاتا ہے اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہیں کرے گا اگرچہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معزز ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2732
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
حدیث نمبر: 2733
وَعَنْ قَتَادَةَ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَأَى رَجُلَيْنِ يُصَلِّيَانِ ؛ أَحَدَهُمَا مُسْبِلَ إِزَارِهِ وَالْآخَرُ لَا يُتِمُّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ فَضَحِكَ فَقَالُوا : مَا يُضْحِكُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : عَجِبْتُ لِهَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ أَمَّا الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ فَلَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَلَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ صَلَاتَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَقَتَادَةَ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ یا شاید کسی اور کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دو آدمیوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ان دونوں میں سے ایک نے تہبند کو لٹکایا ہوا تھا اور دوسرا رکوع اور سجود مکمل ادا نہیں کر رہا تھا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہنس پڑے لوگوں نے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن آپ کس بات پر ہنسے ہیں انہوں نے فرمایا : مجھے ان دو آدمیوں پر حیرانگی ہو رہی ہے جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے ، جس نے اپنے تہبند کو لٹکایا ہوا ہے اللہ تعالی اس کی طرف نظر نہیں کرے گا ، اور جہاں تک دوسرے شخص کا تعلق ہے ، تو اللہ تعالی اس کی نماز کو قبول نہیں کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور قتادہ کے درمیان اس روایت کی سند منقطع ہے ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2733
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 2734
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَتَمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا وَالْقِرَاءَةَ فِيهَا قَالَتْ : حَفِظَكَ اللَّهُ كَمَا حَفِظْتَنِي ثُمَّ أُصْعِدَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ وَلَهَا ضَوْءٌ وَنُورٌ وَفُتِّحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، وَإِذَا لَمْ يُحْسِنِ الْعَبْدُ الْوُضُوءَ وَلَمْ يُتِمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَالْقِرَاءَةَ قَالَتْ : ضَيَّعَكَ اللَّهُ كَمَا ضَيَّعْتَنِي ثُمَّ أُصْعِدَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ وَعَلَيْهَا ظُلْمَةٌ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ثُمَّ تُلَفُّ كَمَا يُلَفُّ الثَّوْبُ الْخَلَقُ ، ثُمَّ ضُرِبَ بِهَا وَجْهُ صَاحِبِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ وَثَّقَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ وَالْعِجْلِيُّ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب بندہ وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے پھر نماز کے لئے کھڑا ہو اور اس کے رکوع اور سجود اور اس میں قرأت کو مکمل کرے تو وہ نماز یہ کہتی ہے اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے جس طرح تم نے میری حفاظت کی ہے پھر اس نماز کو آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے ، تو اس کی روشنی اور نور ہوتا ہے ، اس نماز کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، اور جب بندہ اچھی طرح سے وضو نہیں کرتا ہے رکوع سجود اور قرآءت کو مکمل نہیں کرتا ہے ، تو نماز یہ کہتی ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اسی طرح ضائع کر دے جس طرح تم نے مجھے ضائع کیا ہے پھر اس نماز کو آسمان کی طرف بلند کیا جاتا ہے ، تو اس پر تاریکی طاری ہوتی ہے ، اور آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں پھر اس نماز کو یوں لپیٹا جاتا ہے ، جس طرح پرانے کپڑے کو لپیٹا جاتا ہے ، اور پھر اس نماز کو پڑھنے والے شخص کے منہ پر مار دیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے ، جسے علی بن مدینی اور عجلی نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2734
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2735
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَأَى عُمَرَ رَأَى فَتًى وَهُوَ يُصَلِّي قَدْ أَطَالَ صَلَاتَهُ وَأَطْنَبَ فِيهَا فَقَالَ : مَنْ يَعْرِفُ هَذَا ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : لَوْ كُنْتُ أَعْرِفُهُ لَأَمَرَتُهُ أَنْ يُطِيلَ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي أُتِيَ بِذُنُوبِهِ فَجُعِلَتْ عَلَى رَأْسِهِ وَعَاتِقَيْهِ كُلَّمَا رَكَعَ وَسَجَدَ تَسَاقَطَتْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ ، وَضَعَّفَهُ الْجَمَاعَةُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤ وَفِي هَذَا النَّوْعِ أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ الصَّلَاةِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
زید بن جبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر نے سیدنا عمر کو دیکھا کہ سیدنا عمر نے ایک نوجوان کو دیکھا جو نماز ادا کر رہا تھا اور طویل نماز ادا کر رہا تھا اور اسے کھینچ رہا تھا انہوں نے دریافت کیا : کون شخص اس سے واقف ہے ، تو ایک شخص بولا: میں تو سیدنا عبداللہ بن عمر نے کہا: اگر میں اس شخص سے واقف ہوتا تو میں اسے یہ ہدایت کرتا کہ یہ رکوع اور سجدے کو طویل ادا کرے کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بندہ جب نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے ، تو اس کے گناہ لائے جاتے ہیں اور اس کے سر اور کندھوں پر رکھ دیے جاتے ہیں تو جب بھی وہ رکوع میں جاتا ہے یا سجدے میں جاتا ہے ، تو وہ گناہ گر جاتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے عبدالملک بن شعیب بن لیث بیان کرتے ہیں : یہ ” ثقہ “ اور مامون ہے ایک جماعت یعنی امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس نوعیت کی دیگر احادیث نماز کی فضیلت سے متعلق بات میں آئیں گی باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2735
درجۂ حدیث محدثین: اس موضوع کی تائید میں دیگر صحیح احادیث اور شواہد موجود ہیں۔
حدیث نمبر: 2736
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَوَجَدْتُ عَبْدَ اللَّهِ يُصَلِّي فَرَكَعَ وَافْتَتَحْتُ سُورَةَ الْأَعْرَافِ فَفَرَغْتُ مِنْهَا قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے سیدنا عبداللہ کو نماز ادا کرتے ہوئے پایا وہ رکوع میں چلے گئے میں نے سورت اعراف پڑھنی شروع کی تو ان کے سجدے میں جانے سے پہلے میں سورت مکمل پڑھ چکا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن العلاء ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2736
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع