عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ : بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذِ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ : السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَعَلَيْكَ " - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : " إِنَّهُمْ لَا يَحْسُدُونَا عَلَى شَيْءٍ كَمَا يَحْسُدُونَا عَلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا ، وَعَلَى الْقِبْلَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا ، وَعَلَى قَوْلِنَا خَلْفَ الْإِمَامِ : آمِينَ " . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ الْحَدِيثُ بِتَمَامِهِ فِي الْقِبْلَةِ وَالْكَلَامُ عَلَيْهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھی ، اسی دوران ایک یہودی شخص نے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اس نے کہا: السام علیک ( یعنی آپ کو موت آئے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر بھی ہو ( یعنی تمہیں بھی آئے ) اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں ۔ نبی اکرم سی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ لوگ ہم سے کسی بھی چیز کے حوالے سے اتنا حسد نہیں کرتے جتنا حسد یہ جمعہ کے حوالے سے کرتے ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت نصیب کی اور یہ لوگ اس کے حوالے سے گمراہ رہ گئے اور قبلہ کے حوالے سے ( حسد ) کرتے ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت نصیب کی اور یہ لوگ اس کے حوالے سے گمراہ رہ گئے اور امام کے پیچھے ہمارے آمین کہنے پر ( یہ لوگ ہم سے حسد کرتے ہیں ۔ ) “ ۔ اس سے پہلے یہ مکمل حدیث قبلہ سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، اور اس حدیث پر کلام بھی گزر چکا ہے ۔
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَلَسَ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ أَزْوَاجِهِ وَعَائِشَةُ ، عِنْدَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ قَالَ : " وَعَلَيْكُمْ " ، فَجَلَسُوا فَتَحَدَّثُوا وَقَدْ فَهِمَتْ عَائِشَةُ تَحِيَّتَهُمُ الَّتِي حَيَّوْا بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَجْمَعَتْ غَضَبًا وَتَبَصَّرَتْ فَلَمْ تَمْلِكْ غَيْظَهَا فَقَالَتْ : بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَغَضَبُ اللَّهِ وَلَعْنَتُهُ بِهَذَا تُحَيُّونَ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ خَرَجُوا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا قُلْتِ ؟ " قَالَتْ : أَوَ لَمَ تَسْمَعْ كَيْفَ حَيَّوْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ وَاللَّهِ مَا مَلَكْتُ نَفْسِي حِينَ سَمِعْتُ تَحِيَّتَهُمْ إِيَّاكَ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا جَرَمَ كَيْفَ رَأَيْتِ رَدَدْتِ عَلَيْهِمْ ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ سَئِمُوا دِينَهُمْ وَهُمْ قَوْمُ حَسَدٍ ، وَلَمْ يَحْسُدُوا الْمُسْلِمِينَ عَلَى أَفْضَلِ مِنْ ثَلَاثٍ : رَدُّ السَّلَامِ ، وَإِقَامَةُ الصُّفُوفِ ، وَقَوْلُهُمْ خَلْفَ إِمَامِهِمْ فِي الْمَكْتُوبَةِ : آمِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج میں سے کسی ایک کے گھر میں موجود تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں کچھ یہودی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو موت آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں بھی آئے وہ لوگ بیٹھ گئے اور بات چیت کرنے لگے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے سلام کرنے کے طریقے کی سمجھ آ گئی جن الفاظ کے ذریعے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تھا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو شدید غصہ آیا وہ دیکھتی رہیں پھر انہیں اپنے اوپر ق ابونہیں رہا تو انہوں نے کہا: بلکہ تم لوگوں کو موت آئے اللہ کا غضب اور اس کی لعنت تم پر ہو تم لوگ اس طریقے سے اللہ کے نبی کو سلام کرتے ہو پھر وہ لوگ وہاں سے چلے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم نے جو کچھ کہا: تھا وہ کیوں کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : کیا آپ نے سنا نہیں کہ انہوں نے کس طریقے سے آپ کو سلام کیا تھا ۔ اللہ کی قسم ! جب میں نے ان کے اس سلام کو سنا تو میں خود پر ق ابونہیں رکھ سکی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی مسئلہ نہیں ہے تم نے دیکھا نہیں کہ میں نے انہیں کیسے جواب دیا تھا : یہودی ایسے لوگ ہیں جو اپنے دین سے اکتاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں ، اور یہ حسد کرنے والے لوگ ہیں یہ تین چیزوں سے زیادہ اور کسی چیز کے حوالے سے مسلمانوں کے ساتھ حسد نہیں رکھتے سلام کا جواب دینا صفیں قائم کرنا اور ان لوگوں ( یعنی مسلمانوں ) کا فرض نماز میں امام کے پیچھے آمین کہنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ ( غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ) قَالَ الَّذِينَ خَلْفَهُ : آمِينَ وَالْتَقَتْ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَأَهْلِ الْأَرْضِ آمِينَ غَفَرَ اللَّهُ لِلْعَبْدِ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، قَالَ : وَمَثَلُ الَّذِي لَا يَقُولُ : آمِينَ كَمَثَلِ رَجُلٍ غَزَا مَعَ قَوْمٍ فَاقْتَرَعُوا فَخَرَجَتْ سِهَامُهُمْ وَلَمْ يَخْرُجْ سَهْمُهُ فَقَالَ : مَا لِسَهْمِي لَمْ يَخْرُجْ ؟ قَالَ : إِنَّكَ لَمْ تَقُلْ آمِينَ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : جب امام غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الصَّالِینَ پڑھ لے ، تو اس کے پیچھے موجود افراد آمین کہیں تو آسمانوں والوں ( یعنی فرشتوں ) اور زمین والوں ( یعنی انسانوں ) کا آمین کہنا ایک ساتھ ہو جائے گا ، تو اللہ تعالیٰ بندے کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت کر دے گا آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : کہ جو شخص آمین نہیں کہتا اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے ، جو کچھ لوگوں کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتا ہے وہ قرعہ اندازی کرتے ہیں تو ان لوگوں کا نام نکل آتا اور اس شخص کا نہیں نکلتا تو وہ کہتا ہے کیا وجہ ہے کہ میرا حصہ کیوں نہیں نکلا تو دوسر شخص کہتا ہے کہ کیونکہ تم نے آمین نہیں کہا: تھا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ” ثقہ “ اور تدلیس کرنے والا ہے ، اس نے اسے معنعن روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ” ثقہ “ اور تدلیس کرنے والا ہے ، اس نے اسے معنعن روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔
وَعَنْ سُلَيْمَانَ أَنَّ بِلَالًا قَالَ لِلنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سلیمان بیان کرتے ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ مجھ سے پہلے آمین نہ کہیے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ ( غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ) فَقُولُوا : آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : جب امام غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ پڑھ لے ، تو تم لوگ آمین کہو اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَالَ : آمِينَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ : " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وائل بن حجر بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے نماز شروع کی جب آپ سورت فاتحہ پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے تین مرتبہ آمین کہا: ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” تین مرتبہ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” تین مرتبہ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ قَالَ : ( غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ) قَالَ : رَبِّ اغْفِرْ لِي آمِينَ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ : رَبِّ اغْفِرْ لِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ وَثَّقَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ أَبُو كُرَيْبٍ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَقَالَ ابْنِ عَدِيٍّ : لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وائل بن حجر بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا جب آپ نے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضالین پڑھا تو یہ کہا: اے میرے پروردگار ! تو میری مغفرت کر دے آمین ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” اے میرے پروردگار ! تو میری مغفرت کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن عبدالجبار عطادی ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ابوکریب نے اس کی تعریف کی ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ہے ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” اے میرے پروردگار ! تو میری مغفرت کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن عبدالجبار عطادی ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ابوکریب نے اس کی تعریف کی ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ہے ۔
وَعَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ أَنَّهَا كَانَتْ تُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي صَفِّ النِّسَاءِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ " حَتَّى بَلَغَ " غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ " قَالَ : " آمِينَ " حَتَّى سَمِعْتُهُ وَأَنَا فِي صَفِّ النِّسَاءِ وَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام حصین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے خواتین کی صف میں نماز ادا کی وہ کہتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا {الْحَمْدُ للہ رَبِّ الْعَالَمِينَ 0 الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ 0 مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ 0} یہاں تک کہ جب آپ نے یہ آیت پڑھی {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} تو آپ نے آمین کہا: یہاں تک کہ میں نے یہ بات سن لی حالانکہ میں خواتین کی صف میں موجود تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سجدے میں جاتے تھے یا سجدے سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن مکی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن مکی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔