حدیث نمبر: 2670
عَنِ الْأَغَرِّ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَرَأَ سُورَةَ الرُّومِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب سیدنا اغر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی تو آپ نے سورہ روم کی تلاوت کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2671
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ : مَا مِنْ سُورَةٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ صَغِيرَةٍ وَلَا كَبِيرَةٍ إِلَّا وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَؤُهَا كُلَّهَا فِي الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنِ الْحِجَازِيِّينَ وَهِيَ ضَعِيفَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مفصل سورتوں سے تعلق رکھنے والی ہر چھوٹی اور بڑی سورت کو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسماعیل بن عیاش کی اہل حجاز سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور
یہ روایت ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسماعیل بن عیاش کی اہل حجاز سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور
یہ روایت ” ضعیف “ ہے ۔
حدیث نمبر: 2672
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَدِّدُ الْآيَ فِي الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ نَصْرُ بْنُ طَرِيفٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں آیات کو شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نصر بن طریف ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نصر بن طریف ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 2673
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ فِي الْفَرَائِضِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ يَقُولُونَ فِيهِ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَوَثِّقْهُ ابْنُ مَعِينٍ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب فرض نمازوں میں شروع سے لے کر آخر تک پورا قرآن پڑھ لیتے تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سہیل بن ابوحزم ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، اس کے بعد انہوں نے یہ کہا: ہے یہ قوی نہیں ہے یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سہیل بن ابوحزم ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، اس کے بعد انہوں نے یہ کہا: ہے یہ قوی نہیں ہے یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2674
وَعَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لِكُلِّ سُورَةٍ حَظُّهَا مِنَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ " . ¤ قَالَ : ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَقُلْتُ : إِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ بِالسُّوَرِ فَهَلْ تَعْرِفُ مَنْ حَدَّثَكَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ؟ قَالَ : إِنِّي لَأَعْرِفُهُ وَأَعْرِفُ مُنْذُ كَمْ حَدَّثَنِيهِ ، حَدَّثَنِي مُنْذُ خَمْسِينَ سَنَةً . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوالعالیہ بیان کرتے ہیں : مجھے اس شخص نے یہ بات سنائی ہے ، جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” رکوع اور سجود میں ہر سورت کا مخصوص حصہ ہوتا ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : بعد میں میری ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن عمر ایک رکعت میں مختلف سورتیں تلاوت کر لیتے تھے ؟ تو کیا آپ اس بارے میں جانتے ہیں آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی ہے انہوں نے فرمایا : میں انہیں جانتا ہوں ، اور مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ انہوں نے کتنا عرصہ پہلے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی انہوں نے پچاس سال پہلے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2675
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ : رُبَّمَا أَمَّنَا ابْنُ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - بِالسُّورَتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فِي الْفَرِيضَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں : بعض اوقات سیدنا عبداللہ بن عمر ہماری امامت کرتے ہوئے فرض نماز میں دو یا تین سورتیں پڑھ لیتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 2676
وَعَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ : اجْتَمَعَ ثَلَاثُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : أَمَّا مَا يَجْهَرُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْقِرَاءَةِ فَقَدْ عَلِمْنَاهُ وَمَالَا يَجْهَرُ فِيهِ فَلَا نَقِيسُ بِمَا يَجْهَرُ فِيهِ قَالَ : فَاجْتَمَعُوا فَمَا اخْتَلَفَ مِنْهُمُ اثْنَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلَاثِينَ أَيَّةً فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ ، وَيَقْرَأُ فِي الْعَصْرِ بِقَدْرِ النِّصْفِ مِنْ قِرَاءَتِهِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِقَدْرِ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ وَيُقَالُ : إِنَّ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ سَمِعَ مِنْهُ فِي حَالِ اخْتِلَاطِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
ابوالعالیہ بیان کرتے ہیں : تیس صحابہ کرام اکٹھے ہوئے اور بولے : جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے کہ جن نمازوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز میں قرأت کیا کرتے تھے تو ہمیں ان کا علم ہے ، اور ان کا پتہ ہے کہ جن میں آپ بلند آواز میں قرأت نہیں کیا کرتے تھے تو ہم اس پر قیاس نہیں کریں گے جن میں آپ بلند آواز میں قرأت کرتے تھے راوی بیان کرتے ہیں : تو ان حضرات کا اس بات پر اتفاق تھا ان میں سے دو افراد کی بھی رائے مختلف نہیں تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں پہلی دو رکعات میں سے ہر رکعت میں تقریبا تیس آیات کی تلاوت کرتے تھے ، اور آخری دو رکعات میں اس سے نصف تلاوت کرتے تھے ، اور عصر کی نماز میں آپ اس سے نصف تلاوت کرتے تھے جتنی تلاوت آپ ظہر کی پہلی دو رکعات میں کرتے تھے ، اور آخری دو رکعات میں ظہر کی آخری دو رکعات کی مقدار کی نصف تلاوت کرتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہے وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا یہ بات کہی جاتی ہے یزید بن ہارون نے اس سے اس کے اختلاط کے دوران سماع کیا تھا باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہے وہ ” ثقہ “ ہے ، لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا یہ بات کہی جاتی ہے یزید بن ہارون نے اس سے اس کے اختلاط کے دوران سماع کیا تھا باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 2677
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي نَحْوَ الرُّكْنِ قَبْلَ أَنْ يَصْدَعَ بِمَا يُؤْمَرُ وَالْمُشْرِكُونَ يَسْمَعُونَ : ( فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ) . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ رکن کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کر رہے تھے یہ ( قرآن مجید کے اس حکم کے نازل ہونے ) سے پہلے کی بات ہے کہ تم اس چیز کو جاری رکھو ، اس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے ، اور ( اس وقت ) مشرکین یہ سن رہے تھے ” تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2678
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا صَلَاةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَآيَتَيْنِ مَعَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ - قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : " وَآيَتَيْنِ مَعَهَا " - وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَالدَّارَقُطْنِيُّ ، وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَابْنُ عَدِيٍّ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” سورت فاتحہ اور اس کے ہمراہ دو آیات کی تلاوت کے بغیر نماز نہیں ہوتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے میں یہ کہتا ہوں : یہ ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں “ اس کے ہمراہ دو آیات “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی حسن بن یحیی خشنی ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے دحیم ابن عدی اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے میں یہ کہتا ہوں : یہ ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں “ اس کے ہمراہ دو آیات “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی حسن بن یحیی خشنی ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے دحیم ابن عدی اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2679
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : سُنَّةُ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ أَنْ يُقْرَأَ فِي الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ شَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ وَشَيْخُ شَيْخِهِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نماز میں قرات کا سنت طریقہ یہ ہے کہ پہلی دو رکعات میں سورت فاتحہ اور ایک سورت پڑھی جائے اور آخری دو رکعات میں صرف سورت فاتحہ پڑھی جائے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس میں امام طبرانی کے استاد ، اور ان کے استاد کے استاد میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس میں امام طبرانی کے استاد ، اور ان کے استاد کے استاد میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 2680
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : الْقِرَاءَةُ سُنَّةٌ ، لَا تُخَالِفِ النَّاسَ بِرَأْيِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت فرماتے ہیں : قرأت کرنا سنت ہے تم اپنی رائے کی بنیاد پر لوگوں کے برخلاف نہ کرو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن ابوزناد ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن ابوزناد ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 2681
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يَقْرَأْ فِيهِمَا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ وَفِيهِ حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے دو رکعات ادا کیں اور آپ نے ان دونوں میں صرف سورت فاتحہ کی تلاوت کی ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حنظلہ سدوسی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حنظلہ سدوسی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔