وَعَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ أَنَّهَا كَانَتْ تُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي صَفِّ النِّسَاءِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ " حَتَّى بَلَغَ " غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ " قَالَ : " آمِينَ " حَتَّى سَمِعْتُهُ وَأَنَا فِي صَفِّ النِّسَاءِ وَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدہ ام حصین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے خواتین کی صف میں نماز ادا کی وہ کہتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا {الْحَمْدُ للہ رَبِّ الْعَالَمِينَ 0 الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ 0 مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ 0} یہاں تک کہ جب آپ نے یہ آیت پڑھی {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} تو آپ نے آمین کہا: یہاں تک کہ میں نے یہ بات سن لی حالانکہ میں خواتین کی صف میں موجود تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سجدے میں جاتے تھے یا سجدے سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن مکی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔