وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ ( غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ) قَالَ الَّذِينَ خَلْفَهُ : آمِينَ وَالْتَقَتْ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَأَهْلِ الْأَرْضِ آمِينَ غَفَرَ اللَّهُ لِلْعَبْدِ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، قَالَ : وَمَثَلُ الَّذِي لَا يَقُولُ : آمِينَ كَمَثَلِ رَجُلٍ غَزَا مَعَ قَوْمٍ فَاقْتَرَعُوا فَخَرَجَتْ سِهَامُهُمْ وَلَمْ يَخْرُجْ سَهْمُهُ فَقَالَ : مَا لِسَهْمِي لَمْ يَخْرُجْ ؟ قَالَ : إِنَّكَ لَمْ تَقُلْ آمِينَ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : جب امام غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الصَّالِینَ پڑھ لے ، تو اس کے پیچھے موجود افراد آمین کہیں تو آسمانوں والوں ( یعنی فرشتوں ) اور زمین والوں ( یعنی انسانوں ) کا آمین کہنا ایک ساتھ ہو جائے گا ، تو اللہ تعالیٰ بندے کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت کر دے گا آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : کہ جو شخص آمین نہیں کہتا اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے ، جو کچھ لوگوں کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتا ہے وہ قرعہ اندازی کرتے ہیں تو ان لوگوں کا نام نکل آتا اور اس شخص کا نہیں نکلتا تو وہ کہتا ہے کیا وجہ ہے کہ میرا حصہ کیوں نہیں نکلا تو دوسر شخص کہتا ہے کہ کیونکہ تم نے آمین نہیں کہا: تھا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ” ثقہ “ اور تدلیس کرنے والا ہے ، اس نے اسے معنعن روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔