کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نماز کو شروع کرنا اور اسے ختم کرنا
حدیث نمبر: 2602
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطَّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : نَافِعٌ مَوْلَى يُوسُفَ السُّلَمِيِّ ، وَهُوَ أَبُو هُرْمُزَ ، ضَعِيفٌ ذَاهِبُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” نماز کی کنجی طہارت ہے تکبیر کے ذریعے یہ شروع ہوتی ہے ، اور سلام پھیر کر یہ ختم ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نافع ہے ، جو یوسف سلمی کا آزاد کردہ غلام ہے یہ ابوہرمز ہے یہ ضعیف اور ذاہب الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2602
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبراني باب العين باب الواو من اسمه وليد حديث 9443 المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله وما اسند عبد الله بن عباس رضي الله عنهما عطاء ، 11164 مصنف ابن ابي شيبة كتاب الصلاة فى مفتاح الصلاة ما هو ؟ 2364»
حدیث نمبر: 2603
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطَّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ : الْوَاقِدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” نماز کی کنجی طہارت ہے تکبیر کے ذریعے یہ شروع ہوتی ہے ، اور سلام پھیر کر یہ ختم ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2603
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2604
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : تَحْرِيمُ الصَّلَاةِ التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ ، وَإِذَا سَلَّمْتَ فَعَجَّلَتْ بِكَ حَاجَةٌ فَانْطَلِقْ قَبْلَ أَنْ تُقْبِلَ بِوَجْهِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نماز کا آغاز تکبیر کے ذریعے ہوتا ہے ، اور یہ سلام پھیر کر ختم ہوتی ہے ، جب تم سلام پھیر لو اور تمہیں کسی کام کے سلسلے میں جلدی ہو ، تو تم سامنے کی طرف رُخ کیے بغیر اٹھ کر چلے جاؤ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2604
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2605
وَعَنْ رَفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ : أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ فَصَلَّى فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُعِيدَ فَأَعَادَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَلَوْتُ بَعْدُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ لَا تَتِمُّ صَلَاةٌ لِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ حَتَّى يَتَوَضَّأَ ، فَيَضَعَ الْوُضُوءَ مَوَاضِعَهُ ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ فِي السُّنَنِ الْأَرْبَعَةِ غَيْرَ قَوْلِهِ : اللَّهُ أَكْبَرُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص مسجد میں داخل ہوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف فرما تھے اس نے نماز ادا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ نماز کو دہرائے اس نے دو یا شاید تین مرتبہ نماز کو دہرایا پھر اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے کوئی کوتاہی نہیں کی ہے ( یعنی میں صرف اسی طرح نماز پڑھ سکتا ہوں ) ایسا اس نے دو یا شاید تین مرتبہ کے بعد کہا: ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کسی بھی شخص کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ وضو نہیں کر لیتا وہہ وضو کو صیح طریقے سے کرے گا ، پھر وہ اللہ اکبر کہے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو چاروں ” سنن “ میں منقول ہے ، تاہم اس میں اللہ اکبر کے الفاظ نہیں ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2605
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح