مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ التَّكْبِيرِ . باب: تکبیر کا بیان
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : اشْتَكَى أَبُو هُرَيْرَةَ - أَوْ غَابَ - فَصَلَّى لَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَحِينَ رَكَعَ وَحِينَ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ ، وَحِينَ سَجَدَ ، وَحِينَ قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ ، حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ عَلَى ذَلِكَ ، فَلَمَّا صَلَّى قِيلَ لَهُ : اخْتَلَفَ النَّاسُ عَلَى صَلَاتِكَ فَخَرَجَ فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ وَاللَّهِ مَا أُبَالِي اخْتَلَفَتْ صَلَاتُكُمْ أَوْ لَمْ تَخْتَلِفْ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سعید بن حارث بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے ہیں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) غیر موجود رہے ، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی وہ نماز کے آغاز میں بلند آواز میں تکبیر کہتے تھے رکوع میں جاتے ہوئے بلند آواز میں تکبیر کہتے تھے جب سمع اللہ لمن حمدہ پڑھ لیتے تھے اس وقت تکبیر کہتے تھے جب سجدے سے سر کو اٹھاتے تھے اس وقت تکبیر کہتے تھے جب سجدے میں جاتے تھے اس وقت کہتے تھے جب دو رکعات کے بعد کھڑے ہوتے تھے اس وقت ( بلند آواز میں تکبیر کہتے تھے ) یہاں تک کہ اسی طرح انہوں نے اپنی نماز مکمل کی جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو ان سے کہا: گیا لوگوں نے آپ کی نماز کے بارے میں اختلاف کیا ہے ، تو وہ گھر سے باہر نکلے اور منبر پر کھڑے ہوئے اور بولے : اے لوگو ! اللہ کی قسم میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ تمہاری نماز کا طریقہ مختلف ہے یا مختلف نہیں ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ علامہ ہیثمی کہتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں :یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔