عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الَّذِي يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الرَّجُلِ وَهُوَ يُصَلِّي عَمْدًا يَتَمَنَّى يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّهُ شَجَرَةٌ يَابِسَةٌ" .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جان بوجھ کر کسی دوسرے شخص کے آگے سے گزرے جو نماز ادا کر رہا ہو تو وہ ( گزرنے والا ) قیامت کے دن یہ آرزو کرے گا کہ کاش وہ ایک خشک درخت ہوتا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ : أَرْسَلَنِي أَبُو جُهَيْمٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ ، كَانَ لَأَنْ يَقُومَ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرَ قَوْلِهِ : " خَرِيفًا " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرَ قَوْلِهِ : " خَرِيفًا " .
محمد محی الدین
بسر بن سعید بیان کرتے ہیں : ابوجہیم نے مجھے سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے نمازی کے آگے سے گزرنے والے شخص کے بارے میں دریافت کروں تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو پتہ چل جائے کہ اس کو کتنا گناہ ہو گا ، تو وہ چالیس سال تک کھڑا رہے یہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہو گا کہ وہ اس ( نمازی ) کے آگے سے گزرے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں یہ روایت امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ” سال “ نقل نہیں کیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں یہ روایت امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ” سال “ نقل نہیں کیا ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنِ اسْتَطَاعَ أَحَدُكُمْ أَنْ لَا يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ ، فَإِنَّ الْمَارَّ عَلَى الْمُصَلِّي أَنْقَصُ مِنَ الْمَمَرِّ [عَلَيْهِ] .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر تم میں سے کوئی ایک یہ استطاعت رکھتا ہو کہ ( نماز کے دوران ) اس کے آگے سے کوئی نہ گزرے ، تو اسے ایسا کرنا چاہیے کیونکہ نمازی کے آگے سے گزرنے والا شخص ، اُس سے زیادہ نقص والا ہوتا ہے ، جس کے آگے سے وہ گزرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔