مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي . باب: اس شخص کا بیان جو نمازی کے آگے سے گزرتا ہے
وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ : أَرْسَلَنِي أَبُو جُهَيْمٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ ، كَانَ لَأَنْ يَقُومَ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرَ قَوْلِهِ : " خَرِيفًا " . ¤بسر بن سعید بیان کرتے ہیں : ابوجہیم نے مجھے سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے نمازی کے آگے سے گزرنے والے شخص کے بارے میں دریافت کروں تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو پتہ چل جائے کہ اس کو کتنا گناہ ہو گا ، تو وہ چالیس سال تک کھڑا رہے یہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہو گا کہ وہ اس ( نمازی ) کے آگے سے گزرے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں یہ روایت امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ” سال “ نقل نہیں کیا ۔