کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: جو نمازی کے آگے سے گزرے اسے واپس کرنا ( یا روک دینا )
❮
❯
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي إِذْ جَاءَتْ شَاةٌ تَسْعَى بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَاعَاهَا حَتَّى أَلْزَقَ بَطْنَهُ بِالْحَائِطِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ: عَمْرُو بْنُ حَكَّامٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي بَابِ الدُّنُوِّ مِنَ السُّتْرَةِ وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَأَحَادِيثُ فِي هَذَا الْبَابِ الَّذِي قَبْلَ هَذَا .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے اسی دوران ایک بکری آئی وہ آپ کے آگے سے گزرنے لگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایسا کرنے سے روکا ، یہاں تک کہ آپ نے اپنا پیٹ دیوار کے ساتھ لگا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حکام ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اس سے پہلے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث سترہ کے قریب ہونے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، اور وہ صحیح حدیث ہو گی اگر اللہ نے چاہا اس موضوع سے متعلق کچھ احادیث اس سے پہلے والے باب میں گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2296
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 11937، وأخرجه الأحاديث المختارة برقم: 405، وأخرجه الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف برقم: 2445»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : بَادَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هِرَّةً أَنْ تَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بلی کی طرف بڑھے ( یعنی آپ نے جلدی سے اس کو روک دیا ) جو نماز کے دوران آپ کے آگے سے گزرنا چاہتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2297
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي فَمَرَّ أَعْرَابِيٌّ بِحَلُوبَةٍ لَهُ فَأَشَارَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَفْهَمْ ، فَنَادَاهُ عُمَرُ : يَا أَعْرَابِيُّ وَرَاءَكَ، فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ ؟ " قَالُوا : عُمَرُ ، قَالَ : " مَا لِهَذَا فِقْهٌ " .
قُلْتُ : هَذَا الْكَلَامُ أَخْبَرَ بِهِ عَنِ الْأَعْرَابِيِّ لَا عَنْ عُمَرَ ، فِيمَا أَحْسَبُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبُ الْبَجَلِيُّ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے ایک دیہاتی اپنی دودھ والی اونٹنی کے ساتھ گزرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اشارہ کیا لیکن اسے سمجھ نہیں آئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے بلند آواز میں پکار کر کہا: اے دیہاتی پیچھے رہو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ نے دریافت کیا : کلام کرنے والا شخص کون تھا ؟ تو لوگوں نے بتایا : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تو آپ نے ارشاد فرمایا : اسے سمجھ نہیں ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ بات دیہاتی کے بارے میں کہی گئی ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نہیں کہی گئی جیسا کہ میرا گمان ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسیب بجلی ہے ، جسے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور امام حاکم رحمہ اللہ نے مستدرک میں ” ثقہ “ قرار دیا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2298
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةً مَكْتُوبَةً فَضَمَّ يَدَهُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : " لَا، إِلَّا أَنَّ الشَّيْطَانَ أَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيَّ فَخَنَقْتُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرَدَ لِسَانِهِ عَلَى يَدَيَّ ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا مَا سَبَقَنِي إِلَيْهِ أَخِي سُلَيْمَانُ لَنِيطَ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يَطِيفَ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں فرض نماز ادا کی نماز کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ ملا لئے جب آپ نے نماز مکمل کی تو ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! یہ ہوا تھا کہ شیطان نے میرے آگے سے گزرنے کی کوشش کی تھی تو میں نے اس کا گلہ دبا دیا یہاں تک کہ میں نے اس کی زبان کی ٹھنڈک اپنے ہاتھوں پر محسوس کی اللہ کی قسم اگر میرے بھائی سلیمان پہلے دعا نہ کر چکے ہوتے تو اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے باندھ دیا جانا تھا یہاں تک کہ اہل مدینہ کے بچوں نے اس کے گرد چکر لگانے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن صالح ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2299
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني باب الجيم ، باب من اسمه جابر مفضل بن صالح 2022 ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 2053»
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ : إِذَا أَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي فَلَا تَدَعْهُ ، فَإِنَّهُ يَطْرَحُ نِصْفَ صَلَاتِكَ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب کوئی شخص تمہارے آگے سے گزرنے کا ارادہ کرے اور تم اس وقت نماز ادا کر رہے ہو ، تو تم اسے گزرنے نہ دو ! کیونکہ اس طرح وہ شخص تمہاری نصف نماز کو ضائع کر دے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2300
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله ، عبدالله بن مسعود الهذلي باب حديث 9145 مصنف عبد الرزاق الصنعانى كتاب الصلاة ، باب المار بين يدى المصلى 2262»