عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَانِهِ فَاحْتُفِرَ وَصُبَّ عَلَيْهِ دَلْوٌ مِنْ مَاءٍ . قَالَ الْأَعْرَابِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْمَرْءُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَعْمَلْ بِعَمَلِهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ سِمْعَانُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ أَبُو زُرْعَةَ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ . وَقَالَ ابْنُ خِرَاشٍ : مَجْهُولٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی آیا اور اُس نے مسجد میں پیشاب کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس جگہ کے بارے میں حکم دیا ، تو اُسے کھودا گیا اور وہاں پانی کا ایک ڈول بہا دیا گیا ، اُس دیہاتی نے عرض کی : یا رسول اللہ ایک شخص ، کسی قوم سے محبت رکھتا ہے ، لیکن اُن کے عمل جیسا عمل نہیں کرتا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی ، اُس کے ساتھ ہو گا ، جس سے وہ محبت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سمعان بن مالک ہے ، امام ابوزرعہ فرماتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے ابن خراش کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سمعان بن مالک ہے ، امام ابوزرعہ فرماتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے ابن خراش کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَرَوَى أَبُو يَعْلَى عَقِبَهُ بِإِسْنَادٍ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ مِثْلَهُ . ¤
محمد محی الدین
امام ابویعلیٰ نے اس روایت کے بعد ، ایک ایسی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے ، جس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
عَنْ نَافِعٍ قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الْحِيطَانِ تَكُونُ فِيهَا الْعَذْرَةُ وَأَبْوَالُ النَّاسِ وَرَوْثُ الدَّوَابِّ ، فَقَالَ : إِذَا سَالَتْ عَلَيْهِ الْأَمْطَارُ وَجَفَّفَتْهُ الرِّيَاحُ فَلَا بَأْسَ بِالصَّلَاةِ فِيهِ . يَذْكُرُ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكُلَابِيُّ الرَّقِّيُّ ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَالْأَزْدِيُّ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمِ بْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَهُ أَحَادِيثُ صَالِحَةٌ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اُن باغات کے بارے میں دریافت کیا گیا : جن میں گندگی ، لوگوں کا پیشاب اور جانوروں کا گوبر ہوتا ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جب اُس پر بارشوں کا پانی بہہ جائے ، اور ہوائیں اُسے خشک کر دیں ، تو پھر اس جگہ پر نماز ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات ذکر کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عثمان کلابی رقی ہے ، جسے ابوحاتم اور ازدی نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، ابوحاتم بن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے صالح احادیث منقول ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، البتہ امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عثمان کلابی رقی ہے ، جسے ابوحاتم اور ازدی نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، ابوحاتم بن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے صالح احادیث منقول ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، البتہ امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَلَمْ يَدْخُلْ " ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَهُ : " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ ؟ فَقَالَ : إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا بَوْلٌ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي قِصَّةِ الرَّجُلِ الَّذِي بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جبرائیل میرے ہاں آئے ، تو اندر نہیں آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے دریافت کیا : تم اندر کیوں نہیں آ رہے ؟ انہوں نے جواب دیا : ہم ایسے کسی گھر میں داخل نہیں ہوتے ہیں ، جس میں تصویر ، یا پیشاب موجود ہو “ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اُس شخص کے واقعے کے بارے میں ، احادیث آگے آئیں گی ، جس نے مسجد میں پیشاب کر دیا تھا ، اور وہ احادیث ” کتاب الصلوۃ میں آئیں گی ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اُس شخص کے واقعے کے بارے میں ، احادیث آگے آئیں گی ، جس نے مسجد میں پیشاب کر دیا تھا ، اور وہ احادیث ” کتاب الصلوۃ میں آئیں گی ۔
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " طَهِّرُوا أَفْنِيَتُكُنَّ ; فَإِنَّ الْيَهُودَ لَا تُطَهِّرُ أَفْنِيَتَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے صحنوں کو پاک رکھو ، کیونکہ یہودی اپنے صحن صاف نہیں رکھتے ہیں“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام طبرانی کے استاد کے علاوہ ، اس کے تمام رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام طبرانی کے استاد کے علاوہ ، اس کے تمام رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔