کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بلی اور کتے کا حکم
حدیث نمبر: 1584
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ أَمَرْتُ بِقَتْلِهَا ، فَاقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ . وَمَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لِغَيْرِ صَيْدٍ وَلَا زَرْعٍ وَلَا غَنَمٍ أَوَى إِلَيْهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَإِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ إِحْدَاهُنَّ بِالْبَطْحَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ الْجَارُودِ عَنْ إِسْرَائِيلَ ، وَالْجَارُودُ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر کتے ایک باقاعدہ قسم کی مخلوق نہ ہوتے ، تو میں اُنہیں مار دینے کا حکم دیتا ، البتہ تم اُن میں سے کالے سیاہ کتے کو مار دو ، جو شخص شکار کے علاوہ ، یا کھیت ، یا بکریوں کی حفاظت کے علاوہ ، کتا پالتا ہے ، تو روزانہ اُس کی طرف احد پہاڑ جتنا گناہ کا قیراط آ جاتا ہے اور جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈال دے ، تو آدمی اُسے سات مرتبہ دھوئے ، جن میں سے ایک مرتبہ مٹی کے ذریعے صاف کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” معجم اوسط “ میں ، جارود کے حوالے سے ، اسرائیل سے نقل کی ہے ، جارود نامی شخص سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1584
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «صحيح ابن حبان كتاب الحظر والإباحة باب قتل الحيوان ذكر الإخبار عما اراد المصطفى صلى الله عليه وسلم زجره عن 5734 سنن الدارمي ومن كتاب الصيد باب فى قتل الكلاب 1987 مصنف ابن ابي شيبة كتاب الصيد ما قالوا فى قتل الكلاب 19519 السنن الكبرى للنسائى كتاب الصيد صفة الكلاب التى امر بقتلها 4656 السنن الكبرى للبيهقى كتاب البيوع ، جماع ابواب بيوع الكلاب وغيرها مما لا يحل باب ما جاء فيما يحل اقتناءه من الكلاب 10326 مسند احمد بن حنبل مسند المدنيين حديث عبد الله بن مغفل المزني عن النبى صلى الله عليه حديث 16490 مسند ابن الجعد حديث المبارك بن فضالة بن ابي امية مولى عمر بن الخطاب حديث 2672 مسند عبد بن حميد عبد الله بن مغفل حديث 504 مسند أبى يعلى الموصلي اول مسند ابن عباس 2385 المعجم الاوسط للطبراني باب الألف من اسمه احمد 510 المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله وما اسند عبد الله بن عباس الله عنهما عكرمة عن ابن عباس ، 11768»
حدیث نمبر: 1585
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِي دَارَ قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَدُونَهُمْ دَارٌ ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَأْتِي دَارَ فُلَانٍ وَلَا تَأْتِي دَارَنَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِأَنَّ فِي دَارِكُمْ كَلْبًا " . قَالُوا : فَإِنَّ فِي دَارِهِمْ سِنَّوْرًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " السِّنَّوْرُ سَبُعٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْوُضُوءُ بِفَضْلِهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک محلے میں تشریف لائے ، جس سے پہلے ایک اور محلہ بھی تھا وہاں کے لوگوں کو یہ بات گراں گزری ، اُنہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ فلاں محلے میں تشریف لائے ہیں ، اور ہمارے محلے میں تشریف نہیں لائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارے محلے میں کتا تھا ، لوگوں نے عرض کی : تو اُن کے محلے میں بلی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلی ، ایک درندہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسیب ہے اور وہ ضعیف ہے ، بلی کے بچائے ہوئے ( یعنی جوٹھے ) پانی کے ذریعے وضو کرنے سے متعلق حدیث پہلے گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1585
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1586
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ غُسِلَ سَبْعَ مَرَّاتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے ، تو اُسے سات مرتبہ دھویا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ ہے ، جسے امام أحمد نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اور اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1586
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1587
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " ، أَحْسَبُهُ قَالَ : " إِحْدَاهُنَّ بِالتُّرَابِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ : " إِحْدَاهُنَّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخِ الْبَزَّارِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کتا کسی شخص کے برتن میں منہ ڈال دے ، تو آدمی کو اس برتن کو سات مرتبہ دھونا چاہیے “ ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے : روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” جن میں سے ایک مرتبہ مٹی کے ذریعے صاف کیا جائے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں ۔ ” جن میں سے ایک مرتبہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار کے استاد کے علاوہ ، اس کے تمام رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1587
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔