مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْأَرْضِ تُصِيبُهَا النَّجَاسَةُ . باب: جب زمین پر نجاست لگ جائے
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَلَمْ يَدْخُلْ " ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَهُ : " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ ؟ فَقَالَ : إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا بَوْلٌ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي قِصَّةِ الرَّجُلِ الَّذِي بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ . ¤سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جبرائیل میرے ہاں آئے ، تو اندر نہیں آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے دریافت کیا : تم اندر کیوں نہیں آ رہے ؟ انہوں نے جواب دیا : ہم ایسے کسی گھر میں داخل نہیں ہوتے ہیں ، جس میں تصویر ، یا پیشاب موجود ہو “ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اُس شخص کے واقعے کے بارے میں ، احادیث آگے آئیں گی ، جس نے مسجد میں پیشاب کر دیا تھا ، اور وہ احادیث ” کتاب الصلوۃ میں آئیں گی ۔