کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قرآن کو چھو لینا
حدیث نمبر: 1512
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قرآن کو صرف پاک شخص مس کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1512
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه يحيي 1159 المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله ومما اسند عبد الله بن عمر رضي الله عنهما سالم عن ابن عمر ، 12996»
حدیث نمبر: 1513
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ : لَمَّا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَمَنِ قَالَ : " لَا تَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا وَأَنْتَ طَاهِرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُوِيدٌ أَبُو حَاتِمٍ ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ ، وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَوَثَّقَهُ فِي رِوَايَةٍ ، وَقَالَ أَبُو زُرْعَةَ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، حَدِيثُهُ حَدِيثُ أَهْلِ الصِّدْقِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم قرآن کو صرف اس وقت چھوٹا ، جب تم پاک ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوید ابوحاتم ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے اور ایک روایت کے مطابق یحییٰ بن معین نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، ایک روایت کے مطابق انہوں نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، ابوزرعہ کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث اہل صدق کی نقل کردہ حدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1513
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1514
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : قَالَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ - وَكَانَ شَابًّا - : وَفَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدُونِي أَفْضَلَهُمْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ، وَقَدْ فَضَلْتُهُمْ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ أَمَّرْتُكَ عَلَى أَصْحَابِكَ وَأَنْتَ أَصْغَرُهُمْ ، وَلَا تَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا وَأَنْتَ طَاهِرٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فِي جُمْلَةِ حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِيمَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالنَّسَائِيُّ ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ : ثِقَةٌ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے بتایا : جب وہ نوجوان تھے ، تو وہ وفد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ بیان کرتے ہیں : میرے ساتھیوں نے مجھے پایا ، کہ قرآن یاد رکھنے کے حوالے سے ، میں ان سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہوں ، اور مجھے اُن پر سورہ بقرہ ( حفظ ہونے ) کے حوالے سے بھی فضیلت حاصل تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں ، تمہارے ساتھیوں کا امیر مقرر کرتا ہوں ، اگرچہ تم ان سے عمر میں سب سے چھوٹے ہو ، تم قرآن کو صرف اُس وقت چھونا ، جب تم پاک ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو ان صورتوں کے بارے میں ہے ، جن میں زکوۃ واجب ہوتی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رافع ہے ، جسے یحییٰ بن معین اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ ثقہ لیکن مقارب الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1514
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف