حدیث نمبر: 1510
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ الْفَغْوَاءِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَهَرَاقَ الْمَاءَ نُكَلِّمُهُ فَلَا يُكَلِّمُنَا [ وَنُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَلَا يَرُدُّ عَلَيْنَا ] ، حَتَّى يَأْتِيَ مَنْزِلَهُ فَيَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نُكَلِّمُكَ فَلَا تَكَلُّمُنَا ، وَنُسَلِّمُ عَلَيْكَ فَلَا تَرُدُّ عَلَيْنَا [ قَالَ ] ، حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الرُّخْصَةِ ( يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ ) الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علقمہ بن فغواء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کرتے تھے ، تو ہم آپ کے ساتھ بات کر لیتے ( یعنی آپ کو کچھ کہہ دیتے ) تھے ، آپ ہمارے ساتھ بات نہیں کرتے تھے ، ہم آپ کو سلام کر لیتے تھے ، آپ ہمیں سلام کا جواب نہیں دیتے تھے ، یہاں تک کہ آپ گھر تشریف لے گئے ، آپ نے نماز کے وضو کی طرح وضو کیا ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کے ساتھ کلام کیا لیکن آپ نے ہمارے ساتھ کام نہیں کیا ، ہم نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے ہمیں جواب نہیں دیا ، راوی بیان کرتے ہیں : یہاں تک کہ رخصت والی آیت نازل ہو گئی : ” اے ایمان والو ! جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1510
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف