حدیث نمبر: 1511
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يُقْرِئُ رَجُلًا ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى شَاطِئِ الْفُرَاتِ بَالَ وَكَفَّ عَنْهُ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : مَا لَكَ ؟ قَالَ : أَحْدَثْتَ . قَالَ : اقْرَأْ ، فَجَعَلَ يَقْرَأُ ، وَجَعَلَ يَفْتَحُ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک شخص کو قرآن پڑھا رہے تھے ، یہاں تک کہ جب آپ دریائے فرات کے کنارے پر پہنچے ، تو وہاں انہوں نے پیشاب کیا ، وہ شخص اُن سے پیچھے ہٹ گیا ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ اُس نے کہا: آپ کا وضو ختم ہو گیا ہے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم تلاوت شروع کرو ! اس نے تلاوت شروع کی ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس کو لقمہ دے دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1511
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح