مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا نُهِيَ أَنْ يُسْتَنْجَى بِهِ . باب: کس چیز سے استنجاء کرنے کی ممانعت ہے ؟
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : اسْتَتْبَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةً فَقَالَ : " إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ - خَمْسَةَ عَشَرَ ، بَنُو إِخْوَةٍ ، وَبَنُو عَمٍّ ، - يَأْتُونِيَ اللَّيْلَةَ فَأَقْرَأُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ " ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أَرَادَ ، فَجَعَلَ لِي خَطًّا ثُمَّ أَجْلَسَنِي ، وَقَالَ : لَا تَخْرُجَنَّ مِنْ هَذَا . فَبِتُّ فِيهِ حَتَّى أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ السَّحَرِ وَفِي يَدِهِ عَظْمٌ حَائِلٌ وَرَوْثَةٌ وَحُمَمَةٌ ، فَقَالَ : " إِذَا أَتَيْتَ الْخَلَاءَ فَلَا تَسْتَنْجِ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا " . قَالَ : فَلَمَّا أَصْبَحْتُ قُلْتُ : لَأَعْلَمَنَّ حَيْثُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَهَبْتُ ، فَرَأَيْتُ مَوْضِعَ سَبْعِينَ بَعِيرًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، ضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَلِعَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ طَوِيلٌ يَأْتِي فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے آنے کے لیے کہا: ، آپ نے ارشاد فرمایا پندرہ جنات کا گروہ ، جو ایک دوسرے کے چچازاد اور بھتیجے لگتے ہیں ، وہ آج رات میرے پاس آئیں گے ، اور میں ان کے سامنے قرآن پڑھوں گا ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس جگہ کی طرف گیا ، جہاں آپ جانا چاہتے تھے ، آپ نے میرے لئے ایک لکیر کھینچی اور مجھے بیٹھنے کے لیے کہا: ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم اس سے باہر نہیں جانا ، میں رات بھر وہیں موجود رہا ، یہاں تک کہ سحری کے قریب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، آپ کے دست مبارک میں ہڈی تھی مینگنی تھی اور کوئلہ تھا ، آپ نے ارشاد فرمایا : جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ ، تو ان ( تین چیزوں ) میں سے کسی کے ذریعے استنجاء نہ کرنا ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اگلے دن صبح میں نے سوچا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تشریف لے گئے تھے ، میں اس جگہ کا جائزہ لوں گا میں وہاں گیا ، تو میں نے ستر اونٹوں کی جگہ دیکھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، ائمہ یعنی امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، یحیی بن معین اور عبدالملک بن شعیب بن لیث نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔