حدیث نمبر: 1038
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " أَيُّكُمْ يَتْبَعُنِي إِلَى وَفْدِ الْجِنِّ اللَّيْلَةَ " ، فَأَسْكَتَ الْقَوْمُ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ . قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثًا ، فَمَرَّ بِي يَمْشِي ، فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَجَعَلْتُ أَمْشِي مَعَهُ حَتَّى خَنَسَتْ عَنَّا جِبَالُ الْمَدِينَةِ كُلُّهَا ، وَأَفْضَيْنَا إِلَى أَرْضِ بِرَازٍ ، فَإِذَا رِجَالٌ طِوَالٌ كَأَنَّهُمُ الرِّمَاحُ ، مُسْتَذْفِرِي ثِيَابَهُمْ مِنْ بَيْنِ أَرْجُلِهِمْ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ غَشِيَتْنِي رِعْدَةٌ شَدِيدَةٌ حَتَّى مَا تُمْسِكُنِي رِجْلَايَ مِنَ الْفَرَقِ ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُمْ خَطَّ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِبْهَامِ رِجْلِهِ فِي الْأَرْضِ خَطًّا ، فَقَالَ لِيَ : " اقْعُدْ فِي وَسَطِهِ " ، فَلَمَّا جَلَسْتُ ذَهَبَ عَنِّي كُلُّ شَيْءٍ كُنْتُ أَجِدُهُ مِنْ رِيبَةٍ ، وَمَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ ، فَتَلَا قُرْآنًا رَفِيعًا حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى مَرَّ بِي ، فَقَالَ لِيَ : " الْحَقْ " ، فَجَعَلْتُ أَمْشِي مَعَهُ ، فَمَضَيْنَا غَيْرَ بَعِيدٍ ، فَقَالَ لِيَ : " الْتَفِتْ فَانْظُرْ ، هَلْ تَرَى حَيْثُ كَانَ أُولَئِكَ مِنْ أَحَدٍ ؟ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَى سَوَادًا كَثِيرًا ، فَخَفَّضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ إِلَى الْأَرْضِ ، فَنَظَّمَ عَظْمًا بِرَوْثَةٍ ، ثُمَّ رَمَى بِهِ إِلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : " رُشْدُ أُولَئِكَ مِنِّي ، وَفْدُ قَوْمٍ هُمْ وَفْدُ نَصِيبِينَ ، سَأَلُونِيَ الزَّادَ فَجَعَلْتُ لَهُمْ كُلَّ عَظْمٍ وَرَوْثَةٍ " . قَالَ الزُّبَيْرُ : فَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَسْتَنْجِيَ بِعَظْمٍ وَلَا رَوْثَةٍ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، لَيْسَ فِيهِ غَيْرُ بَقِيَّةَ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالتَّحْدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی مسجد میں ، ہمیں صبح کی نماز پڑھائی ، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو آپ نے دریافت کیا : آج رات کون میرے ساتھ جنات کے وفد سے ملاقات کے لیے جائے گا ؟ تو حاضرین خاموش رہے ، ان میں سے کسی نے بھی کوئی بات نہیں کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر آپ میرے پاس سے گزرے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ، میں آپ کے ساتھ چلنے لگا ، یہاں تک کہ مدینہ منورہ کے تمام پہاڑ ہم سے اوجھل ہو گئے اور ہم کھلی جگہ پر آ گئے ، وہاں نیزوں کی طرح کے طویل القامت افراد موجود تھے جنہوں نے اپنے کپڑے دونوں ٹانگوں کے درمیان کیے ہوئے تھے ، جب میں نے انہیں دیکھا تو مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی ، یہاں تک کہ خوف کی شدت کی وجہ سے میری ٹانگیں کانپنے لگیں ، جب ہم اُن لوگوں کے قریب پہنچے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں کے انگھوٹھے کے ذریعے زمین پر میرے لیے لکیر لگا دی ، آپ نے مجھ سے فرمایا : تم اس کے درمیان میں بیٹھ جاؤ ! جب میں بیٹھ گیا ، تم مجھے جو بھی پریشانی لاحق تھی ، وہ سب ختم ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور ( ان ) لوگوں کے درمیان تشریف لے گئے ، صبح صادق ہونے تک آپ بلند آواز میں قرآن کی تلاوت کرتے رہے ، پھر آپ واپس تشریف لائے ، جب آپ میرے پاس پہنچے ، تو آپ نے فرمایا : میرے ساتھ آ جاؤ ! میں آپ کے ساتھ چلنے لگا ، ابھی ہم زیادہ دور نہیں گئے تھے ، کہ آپ نے ارشاد فرمایا : مڑ کر دیکھو ! جہاں وہ لوگ موجود تھے ، وہاں تمہیں کچھ نظر آ رہا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہاں بہت سے افراد محسوس ہو رہے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر زمین کی طرف جھکایا ، پھر آپ نے ایک ہڈی کو مینگنی کے ساتھ لگایا اور اسے ان لوگوں کی طرف پھینک دیا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : یہ میری طرف سے اُن لوگوں کی رہنمائی ہے ، یہ ایک قوم کا وفد تھا یہ ” نصیبین “ کا وفد تھا ، انہوں نے مجھ سے زاد راہ مانگا ، تو میں نے ہر ہڈی اور مینگنی کو اُن کے لیے ( زاد راہ کے طور پر ) مقرر کر دیا ۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اب ہمیشہ کے لیے ، کسی کے لیے بھی ہڈی یا مینگنی کے ذریعے استنجاء کرنا حلال نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے ، بقیہ کے علاوہ اس میں اور کوئی ( ضعف نہیں ہے ) اور اس نے بھی تحدیث کی صراحت کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1038
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن